BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-0.58%)
KSE100 Decreased By (-0.97%)
KSE30 Decreased By (-1.07%)
BAFL 56.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.19%)
BIPL 26.98 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
BOP 33.75 Decreased By ▼ -0.28 (-0.82%)
CNERGY 9.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.8%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.72%)
DGKC 204.93 Decreased By ▼ -1.58 (-0.77%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -0.36 (-0.36%)
FCCL 53.09 Decreased By ▼ -1.61 (-2.94%)
FFL 16.52 Decreased By ▼ -0.17 (-1.02%)
GGL 24.84 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
HBL 299.82 Decreased By ▼ -2.53 (-0.84%)
HUBC 217.08 Decreased By ▼ -2.30 (-1.05%)
HUMNL 10.61 Increased By ▲ 0.21 (2.02%)
KEL 7.22 Decreased By ▼ -0.18 (-2.43%)
LOTCHEM 29.31 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
MLCF 92.16 Decreased By ▼ -2.20 (-2.33%)
OGDC 316.29 Increased By ▲ 0.45 (0.14%)
PAEL 42.04 Decreased By ▼ -1.16 (-2.69%)
PIBTL 16.41 Decreased By ▼ -0.33 (-1.97%)
PIOC 300.24 Increased By ▲ 3.14 (1.06%)
PPL 216.84 Decreased By ▼ -2.94 (-1.34%)
PRL 50.86 Increased By ▲ 1.67 (3.39%)
SNGP 101.72 Decreased By ▼ -3.18 (-3.03%)
SSGC 26.98 Decreased By ▼ -1.27 (-4.5%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.14 (-1.59%)
TPLP 13.39 Increased By ▲ 0.12 (0.9%)
TRG 59.26 Decreased By ▼ -0.88 (-1.46%)
UNITY 10.30 Decreased By ▼ -0.13 (-1.25%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.03 (-2.38%)
دنیا

شدید بارشوں نے افغانستان میں لاپتا درجنوں افراد کی تلاش کا عمل سست کر دیا

  • مشرقی افغانستان میں تباہ کن سیلاب سے 23 افراد جاں بحق، درجنوں تاحال لاپتا، مسلسل بارشوں نے مزید تباہی کا خطرہ بڑھا دیا
شائع اپ ڈیٹ

مشرقی افغانستان میں شدید بارش اور مزید سیلاب کے خدشات کے باعث منگل کو درجنوں لاپتا افراد کی تلاش متاثر رہی، جہاں ایک روز قبل آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک صوبے میں کم از کم 23 افراد کی جان لے لی تھی۔

قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے اور صوبائی گورنر کے دفتر کے مطابق اب بھی تقریباً 100 افراد لاپتا ہیں، جبکہ پیر کے روز آنے والے سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 23 ہو گئی ہے۔

صوبہ نورستان کے دارالحکومت پارون میں درجنوں امدادی کارکن لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف تھے کہ اسی دوران اے ایف پی کے نمائندے نے دور سے دو فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ گولیاں دریا کے بالائی حصے سے مزید سیلابی ریلے آنے سے خبردار کرنے کے لیے چلائی گئی تھیں۔

34 سالہ فارماسسٹ فرید گل ظہیر نے بتایا، ”میں نے اپنی زندگی میں اتنا خطرناک سیلاب کبھی نہیں دیکھا۔“

انہوں نے کہا، ”ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے زلزلہ آ گیا ہو، اور ہر طرف بچوں اور لوگوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔“ وہ پہاڑ کی جانب بھاگتے ہوئے زخمی بھی ہو گئے۔

شدید بارش کے باوجود امدادی کارکن ننگے ہاتھوں اور لکڑی کے ڈنڈوں کی مدد سے لاپتا افراد کی تلاش کرتے رہے، جبکہ ملبے کے بڑے ڈھیروں کے باعث بلڈوزر بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔

صوبائی گورنر کے دفتر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پارون کے میئر سید احمد ارہابی بھی شامل ہیں۔

نورستان کے گورنر زین العابدین عابد نے اس سانحے کو ”انتہائی افسوسناک اور سنگین واقعہ“ قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ منگل کی شام تک تمام لاشیں نکال لی جائیں گی۔

سپوگمئی ہوٹل کے منیجر ذاکراللہ ذکی نے کہا، ”ایسا لگا جیسے ہم پر خدا کا عذاب نازل ہو گیا ہو۔“

29 سالہ ذکی نے بتایا کہ ”دیگر تمام ہوٹل، بازار اور دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔“ ان کے مطابق اگرچہ سپوغمئی ہوٹل کھڑا رہا، لیکن اس کے اردگرد ہر چیز تباہ ہو گئی، جبکہ ان کا لاپتا چھوٹا بھائی بھی بعد میں مل گیا۔

’ہر شخص صدمے سے دوچار‘

افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے شعبۂ اطلاعات کے سربراہ جمعہ خان نائل نے بتایا کہ سیلابی پانی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں رضاکار بیلچوں اور اپنے ہاتھوں سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ان کے بقول، ”اس وقت ہماری اولین ترجیح متاثرین کو خوراک، پینے کا پانی اور ان خاندانوں کے لیے خیمے فراہم کرنا ہے جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔“

افغان وزارتِ دفاع نے بھی بتایا کہ امدادی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے فوج کو متاثرہ علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

فارماسسٹ فرید گل ظہیر نے کہا، ”میں سب کچھ کھو چکا ہوں۔“

انہوں نے مزید کہا، ”ہر شخص شدید صدمے میں ہے، کسی کی پوری رات آنکھ نہیں لگی۔“

دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے نورستان سمیت متعدد صوبوں میں مزید بارشوں اور طوفانوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد پارون میں پولیس نے شہریوں کو دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ان بارشوں کے اثرات پڑوسی ملک پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئے، جہاں خیبرپختونخوا کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق 12 افراد جاں بحق ہوئے۔

رواں سال مارچ اور اپریل کے دوران افغانستان اور پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور حالیہ برسوں میں وہاں سیلاب کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے سربراہ مولوی مطیع الحق خالص نے رواں ماہ کہا تھا کہ ”ماحولیاتی مسائل نے افغان عوام کو شدید متاثر کیا ہے اور ملک میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔“

Comments

200 حروف