باب المندب کی ناکہ بندی کی دھمکی، عالمی توانائی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ
- حالیہ ہفتوں میں ینبع سے تیل کی ترسیل تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، جو ایک سال قبل تقریباً 9 لاکھ 73 ہزار بیرل یومیہ تھی۔
یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پہلے ہی آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد جزوی رکاوٹوں کے باعث دباؤ کا شکار عالمی توانائی منڈی کو ایک نئے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی باب المندب کی آبنائے میں بحری سرگرمیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو مشرق وسطیٰ کے تیل کی برآمد کے دو اہم راستے، یعنی آبنائے ہرمز اور باب المندب، بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی، تجارتی سرگرمیوں اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اگرچہ یہ ابھی واضح نہیں کہ حوثی سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کس طریقے سے نافذ کریں گے یا آیا وہ بحری جہازوں پر دوبارہ حملے شروع کریں گے، تاہم یمن کا محلِ وقوع باب المندب آبنائے پر ہونے کے باعث اس خطرے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جزوی رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے تیل اور دیگر اشیا کی برآمدات متاثر ہوئیں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
اس صورت حال میں سعودی عرب نے اپنی یومیہ خام تیل برآمدات کا 70 فیصد سے زائد حصہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کر دیا۔ یورپ جانے والے بحری جہاز سویز کینال کے ذریعے جبکہ ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ینبع سے تیل کی ترسیل تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، جو ایک سال قبل تقریباً 9 لاکھ 73 ہزار بیرل یومیہ تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق جون کے دوران باب المندب سے روزانہ تقریباً 74 لاکھ بیرل پیٹرولیم مصنوعات گزریں، جو عالمی یومیہ تیل پیداوار کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہیں۔
حوثی تحریک 1990 کی دہائی میں شمالی یمن میں ایک مذہبی، سیاسی اور عسکری تحریک کے طور پر ابھری۔ گزشتہ ایک دہائی سے وہ سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے خلاف برسرِپیکار ہے اور ماضی میں سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کر چکی ہے۔
امریکہ کا الزام ہے کہ ایران، حزب اللہ کے ذریعے حوثیوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور عسکری تربیت فراہم کرتا ہے، تاہم حوثی خود کو ایران کا نمائندہ گروہ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار خود تیار کرتے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد حوثیوں نے اسرائیل اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، جس سے عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی اور کئی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر کا راستہ چھوڑ کر افریقہ کے گرد طویل اور مہنگا راستہ اختیار کر لیا۔
تازہ ایران جنگ کے دوران حوثیوں نے ابتدا میں محدود کردار ادا کیا، تاہم اب سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔






















Comments