BR100 Decreased By (-1.44%)
BR30 Decreased By (-1.74%)
KSE100 Decreased By (-1.27%)
KSE30 Decreased By (-1.33%)
BAFL 58.05 Decreased By ▼ -0.58 (-0.99%)
BIPL 27.60 Decreased By ▼ -0.60 (-2.13%)
BOP 35.25 Decreased By ▼ -0.85 (-2.35%)
CNERGY 10.07 Increased By ▲ 0.38 (3.92%)
DFML 19.40 Decreased By ▼ -0.41 (-2.07%)
DGKC 217.34 Decreased By ▼ -7.15 (-3.18%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -1.53 (-1.51%)
FCCL 54.22 Decreased By ▼ -1.66 (-2.97%)
FFL 17.33 Decreased By ▼ -0.25 (-1.42%)
GGL 24.75 Decreased By ▼ -0.26 (-1.04%)
HBL 310.60 Decreased By ▼ -3.18 (-1.01%)
HUBC 223.50 Decreased By ▼ -3.55 (-1.56%)
HUMNL 11.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.43%)
KEL 7.94 Decreased By ▼ -0.16 (-1.98%)
LOTCHEM 31.74 Increased By ▲ 0.28 (0.89%)
MLCF 101.20 Decreased By ▼ -3.04 (-2.92%)
OGDC 331.97 Decreased By ▼ -2.16 (-0.65%)
PAEL 43.85 Decreased By ▼ -1.18 (-2.62%)
PIBTL 17.70 Decreased By ▼ -0.27 (-1.5%)
PIOC 269.75 Decreased By ▼ -2.84 (-1.04%)
PPL 231.85 Decreased By ▼ -4.70 (-1.99%)
PRL 42.78 Increased By ▲ 0.71 (1.69%)
SNGP 111.50 Decreased By ▼ -0.90 (-0.8%)
SSGC 30.50 Decreased By ▼ -0.33 (-1.07%)
TELE 9.29 Increased By ▲ 0.12 (1.31%)
TPLP 11.76 Decreased By ▼ -0.86 (-6.81%)
TRG 64.00 Decreased By ▼ -1.58 (-2.41%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.21 (-2.05%)
WTL 1.29 Decreased By ▼ -0.03 (-2.27%)
دنیا

بھارت: غیر قانونی نکوٹین پاؤچز کی فروخت پر حکومت کا سخت موقف،عدالت سے اڈانی گروپ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

  • بھارتی حکومت نے 'صحتِ عامہ کے سنگین خطرات' اور منشیات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث ممبئی ایئرپورٹ پر اڈانی گروپ کے غیر منظور شدہ نکوٹین پاؤچز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہوائی اڈے پر نکوٹین پاؤچز کی فروخت منشیات سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور صحتِ عامہ کے لیے شدید خطرہ ہے، اور اسی بنیاد پر اس نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ممبئی ایئرپورٹ پر بغیر لائسنس نکوٹین پاؤچز فروخت کرنے کے خلاف سرکاری فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے اڈانی گروپ کی درخواست مسترد کی جائے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ملک کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شامل ممبئی ایئرپورٹ بھارتی سرزمین کا حصہ ہے، اس لیے اڈانی گروپ کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ کسٹمز کے گوداموں میں درآمد اور ذخیرہ کیے گئے، اور صرف بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو فروخت کیے جانے والے نکوٹین پاؤچز پر بھارتی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

7 جولائی کو ممبئی کی ایک عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست، جس کا رائٹرز نے جائزہ لیا، میں حکومت نے کہا کہ ”یہ مصنوعات ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچتے ہی بھارتی فضائی حدود اور سرزمین میں داخل ہو جاتی ہیں۔ انہیں کسٹمز کے بانڈڈ گودام میں رکھنے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ وہ جسمانی طور پر بھارت میں موجود ہیں۔“

یہ مقدمہ بھارتی محکمۂ ادویات کے مارچ میں کیے گئے معائنے کے بعد سامنے آیا، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ اڈانی کے ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ڈیوٹی فری دکانوں میں نکوٹین پاؤچز، جنہیں بھارت میں دوا تصور کیا جاتا ہے، ضروری منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر ذخیرہ اور فروخت کیے جا رہے تھے۔ اس کے بعد کمپنی نے عدالت سے رجوع کیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق بھارتی حکام کے ساتھ اڈانی گروپ کی یہ قانونی جنگ اس بات کے تعین میں نظیر بن سکتی ہے کہ بھارت ڈیوٹی فری بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر دنیا کی تیزی سے مقبول ہونے والی نکوٹین مصنوعات میں شامل نکوٹین پاؤچز کی فروخت کو کس طرح ریگولیٹ کرتا ہے۔

حکومت کے تازہ مؤقف پر تبصرے کے لیے رائٹرز کی جانب سے رابطہ کرنے پر اڈانی گروپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ممبئی ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت منگل کو متوقع ہے۔

اڈانی گروپ نے گزشتہ ہفتے رائٹرز کو جاری بیان میں کہا تھا کہ اس معاملے کو ”قانون کی خلاف ورزی“ قرار دینا قبل از وقت اور قانونی طور پر غیر مستحکم مؤقف ہے، جبکہ اس کی ذیلی کمپنی ممبئی ٹریول ریٹیل نے ریگولیٹری تشریح کو عدالتی نظرثانی کے ذریعے چیلنج کر رکھا ہے۔

بھارت کے سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے اپنی درخواست میں کہا کہ اڈانی کے ہوائی اڈے پر نکوٹین پاؤچز کی فروخت محض طریقۂ کار کی خلاف ورزی نہیں بلکہ بھارتی ادویات سے متعلق مختلف قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

رائٹرز پہلی خبر رساں ایجنسی ہے جس نے عدالت میں اڈانی کے خلاف حکومت کے ان دلائل کی تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔

نکوٹین ایک ”نشہ آور کیمیکل“

ارب پتی گوتم اڈانی کا گروپ بھارت میں آٹھ ہوائی اڈوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیوٹی فری دکانوں سمیت 11 ارب ڈالر کے توسیعی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

بھارت میں رجسٹریشن کے بعد نکوٹین کے بعض متبادل، جیسے پیچز اور چیونگ گم، کی اجازت دی جا چکی ہے، تاہم ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کیے جانے والے نکوٹین پاؤچز اب بھی غیر منظور شدہ اور غیر قانونی ہیں۔

حکومت نے اپنے دلائل میں 2019 کے اس بھارتی قانون کا حوالہ بھی دیا جس کے تحت ای سگریٹس اور ویپس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق یہ قانون غیر منظم نکوٹین مصنوعات کے صحت پر مضر اثرات کو تسلیم کرتا ہے، اس لیے ہوائی اڈے پر نکوٹین پاؤچز کی فروخت کی اجازت دینا قانون ساز ادارے کی پالیسی کو عدالتی راستے سے غیر مؤثر بنانے کے مترادف ہوگا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں تمباکو کے استعمال سے ہر سال 13 لاکھ 50 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ جون میں جاری ہونے والی ایک سرکاری تحقیق میں نکوٹین پاؤچز کو ”صحتِ عامہ کے لیے ایک نیا اور بڑی حد تک غیر منظم خطرہ“ قرار دیا گیا، جبکہ 18 سے 40 سال کے افراد میں ان کی غیر قانونی فروخت اور استعمال کو وسیع پیمانے پر ریکارڈ کیا گیا۔

رائٹرز کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ گزشتہ سال اگست سے اب تک فلپ مورس کے زِن (Zyn) برانڈ کے 29 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے نکوٹین پاؤچز اور وائٹ فاکس برانڈ کے 7,700 ڈالر مالیت کے پاؤچز درآمد کر چکا ہے۔

اڈانی گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ پاؤچز ”دوا نہیں بلکہ ایک نئی اختراع“ ہیں، تاہم حکومت اس سے متفق نہیں۔

حکومت نے عدالت میں کہا، ”نکوٹین ایک نفسیاتی اثر رکھنے والا اور نشہ پیدا کرنے والا کیمیکل ہے۔“

درخواست میں مزید کہا گیا کہ منظوری کے بغیر نکوٹین پاؤچز کی فروخت کے ذریعے، خصوصاً بھارتی شہریوں سمیت بین الاقوامی مسافروں کو، ایسی مصنوعات فراہم کی جا رہی ہیں جن کے معیار اور حفاظت کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے ان کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Comments

200 حروف