BR100 Increased By (0.82%)
BR30 Increased By (0.89%)
KSE100 Increased By (0.73%)
KSE30 Increased By (0.83%)
BAFL 58.68 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
BIPL 28.25 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
BOP 36.05 Increased By ▲ 0.09 (0.25%)
CNERGY 9.70 Increased By ▲ 0.30 (3.19%)
DFML 19.89 Increased By ▲ 0.11 (0.56%)
DGKC 225.35 Increased By ▲ 2.05 (0.92%)
FABL 101.53 Increased By ▲ 0.21 (0.21%)
FCCL 56.05 Increased By ▲ 0.58 (1.05%)
FFL 17.61 Increased By ▲ 0.13 (0.74%)
GGL 25.19 Increased By ▲ 0.38 (1.53%)
HBL 313.51 Increased By ▲ 4.62 (1.5%)
HUBC 227.45 Increased By ▲ 0.52 (0.23%)
HUMNL 11.10 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.19 (2.39%)
LOTCHEM 31.23 Increased By ▲ 0.80 (2.63%)
MLCF 104.69 Increased By ▲ 1.92 (1.87%)
OGDC 335.50 Increased By ▲ 1.95 (0.58%)
PAEL 45.35 Increased By ▲ 0.28 (0.62%)
PIBTL 18.05 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
PIOC 272.90 Increased By ▲ 1.06 (0.39%)
PPL 237.69 Increased By ▲ 2.07 (0.88%)
PRL 42.21 Increased By ▲ 0.36 (0.86%)
SNGP 113.90 Decreased By ▼ -0.33 (-0.29%)
SSGC 30.78 Decreased By ▼ -0.29 (-0.93%)
TELE 9.14 Increased By ▲ 0.14 (1.56%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.06 (-0.47%)
TRG 65.50 Increased By ▲ 0.33 (0.51%)
UNITY 10.26 Increased By ▲ 0.06 (0.59%)
WTL 1.32 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

ٹڈاپ اور پی ایچ ڈی ای کا خصوصی اجلاس، آلو کی برآمدات کے مواقع کا جائزہ لیا

  • جی سی سی تنازع اور افغانستان کی سرحد بند ہونے سے آلو کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی، اطہر کھوکھر
شائع اپ ڈیٹ

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای) نے 101 ایسے رجسٹرڈ پاکستانی برآمد کنندگان کے ساتھ خصوصی اجلاس بلایا جنہیں روسی حکام کی جانب سے ٹیبل پوٹاٹوز (کھانے کے آلو) برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اجلاس میں روسی نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن کی جانب سے پاکستانی آلو کی برآمد پر عائد عارضی پابندی اٹھائے جانے کی کامیابی کو اجاگر کیا گیا جبکہ روسی مارکیٹ میں فوری برآمدی مواقع کا جائزہ بھی لیا گیا۔

محکمہ تحفظِ نباتات کے سابق ماہرِ حشرات (قرنطینہ) ڈاکٹر خالد ظفر نے قرنطینہ کیڑوں کے مؤثر انتظام اور مختلف فریقین کی مشترکہ کوششوں پر تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشن دی جن کے نتیجے میں پاکستان سے آلو کی برآمدات دوبارہ بحال ہوئیں۔

ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کی وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز نے شرکاء کو روس میں موجود مارکیٹ کے مواقع سے آگاہ کیا اورٹڈاپ کے تعاون سے روس کے بڑے درآمد کنندگان کے ساتھ ورچوئل بی ٹو بی میٹنگز کے منصوبے کی تصدیق کی۔ انہوں نے روس کے اہم خریداروں کو 23 سے 26 نومبر 2026 تک کراچی میں منعقد ہونے والی فوڈ ایگ نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔

ٹڈاپ کے ڈائریکٹر جنرل (ایگرو اینڈ فوڈ ڈویژن) اور پی ایچ ڈی ای سی کے سی ای او اطہر کھوکھر نے کہا کہ جی سی سی تنازع اور افغانستان کی سرحد بند ہونے کے باعث پاکستان کی آلو کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے پابندی اٹھائے جانے سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ڈی پی پی کے تعاون سے ٹڈاپ مختلف منڈیوں کے لیے آلو کی مزید اقسام کی رجسٹریشن پر فعال طور پر کام کررہا ہے۔انہوں نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ پراسیسڈ آلو کی اقسام پر توجہ مرکوز کریں کیونکہ روسی مارکیٹ میں ان کی طلب زیادہ ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف