ٹڈاپ اور پی ایچ ڈی ای کا خصوصی اجلاس، آلو کی برآمدات کے مواقع کا جائزہ لیا
- جی سی سی تنازع اور افغانستان کی سرحد بند ہونے سے آلو کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی، اطہر کھوکھر
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای) نے 101 ایسے رجسٹرڈ پاکستانی برآمد کنندگان کے ساتھ خصوصی اجلاس بلایا جنہیں روسی حکام کی جانب سے ٹیبل پوٹاٹوز (کھانے کے آلو) برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اجلاس میں روسی نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن کی جانب سے پاکستانی آلو کی برآمد پر عائد عارضی پابندی اٹھائے جانے کی کامیابی کو اجاگر کیا گیا جبکہ روسی مارکیٹ میں فوری برآمدی مواقع کا جائزہ بھی لیا گیا۔
محکمہ تحفظِ نباتات کے سابق ماہرِ حشرات (قرنطینہ) ڈاکٹر خالد ظفر نے قرنطینہ کیڑوں کے مؤثر انتظام اور مختلف فریقین کی مشترکہ کوششوں پر تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشن دی جن کے نتیجے میں پاکستان سے آلو کی برآمدات دوبارہ بحال ہوئیں۔
ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کی وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز نے شرکاء کو روس میں موجود مارکیٹ کے مواقع سے آگاہ کیا اورٹڈاپ کے تعاون سے روس کے بڑے درآمد کنندگان کے ساتھ ورچوئل بی ٹو بی میٹنگز کے منصوبے کی تصدیق کی۔ انہوں نے روس کے اہم خریداروں کو 23 سے 26 نومبر 2026 تک کراچی میں منعقد ہونے والی فوڈ ایگ نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔
ٹڈاپ کے ڈائریکٹر جنرل (ایگرو اینڈ فوڈ ڈویژن) اور پی ایچ ڈی ای سی کے سی ای او اطہر کھوکھر نے کہا کہ جی سی سی تنازع اور افغانستان کی سرحد بند ہونے کے باعث پاکستان کی آلو کی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے پابندی اٹھائے جانے سے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ڈی پی پی کے تعاون سے ٹڈاپ مختلف منڈیوں کے لیے آلو کی مزید اقسام کی رجسٹریشن پر فعال طور پر کام کررہا ہے۔انہوں نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ پراسیسڈ آلو کی اقسام پر توجہ مرکوز کریں کیونکہ روسی مارکیٹ میں ان کی طلب زیادہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments