BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

وینزویلا میں ہلاکتیں بڑھ گئیں، ملبے سے زندہ نکلنے والے کی دل دہلا دینے والی داستان

  • ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2,954 ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر اور 41 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں
شائع اپ ڈیٹ

وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے طاقتور زلزلوں کے تباہ کن اثرات اب بھی برقرار ہیں، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2,954 ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر اور 41 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ لا گوائیرا ریاست کے رہائشی خوان زاپاتا نے اپنی ہولناک داستان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے پانچویں منزل کے اپارٹمنٹ میں رات کا کھانا کھانے کے بعد نہانے کی تیاری کر رہے تھے کہ دو شدید زلزلوں کے جھٹکوں نے انہیں کمرے میں اچھال دیا۔ وہ ملبے تلے دو دن اور سات گھنٹے تک سریے کے درمیان پھنسے رہے، جہاں سے رضاکار امدادی کارکنوں نے انہیں زندہ نکالا۔

زاپاتا نے بتایا کہ جب امدادی کارکن انہیں نکال رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ وہ پانچویں منزل پر ہیں، مگر انہیں بتایا گیا کہ عمارت زمین بوس ہو چکی ہے اور وہ تہہ خانے کے قریب ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ ان کی کئی پسلیاں ٹوٹ چکی ہیں، ٹانگوں پر گہرے زخم آئے ہیں اور سانس لینے میں بھی تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا گھر، تمام سامان، موبائل فون اور شناختی دستاویزات تباہ ہو گئے، تاہم وہ اپنی جان بچ جانے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔

حکام کے مطابق تقریباً 30 ہزار سرکاری اہلکاروں اور 3,281 بین الاقوامی امدادی کارکنوں کو امدادی سرگرمیوں کے لیے تعینات کیا گیا ہے، جبکہ 16 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور سرکاری پناہ گاہوں یا خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ادھر مقامی رضاکاروں نے حکومت پر امدادی کارروائیاں سست ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوراک، ادویات اور بھاری مشینری بروقت فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

رضاکار الیگزینڈر ڈیلگاڈو اور مکینک میگوئل پولیو سمیت درجنوں شہری اب بھی متاثرہ علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک تلاش کا عمل جاری رکھیں گے جب تک تمام متاثرین کو ڈھونڈ نہیں لیا جاتا، تاکہ لواحقین اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں۔

Comments

200 حروف