BR100 Increased By (0.45%)
BR30 Increased By (0.8%)
KSE100 Increased By (0.36%)
KSE30 Increased By (0.36%)
BAFL 62.23 Increased By ▲ 0.83 (1.35%)
BIPL 27.68 Increased By ▲ 0.24 (0.87%)
BOP 36.89 Increased By ▲ 0.58 (1.6%)
CNERGY 8.40 Increased By ▲ 0.19 (2.31%)
DFML 20.05 Increased By ▲ 0.09 (0.45%)
DGKC 227.60 Increased By ▲ 0.46 (0.2%)
FABL 100.20 Decreased By ▼ -1.26 (-1.24%)
FCCL 58.89 Decreased By ▼ -0.39 (-0.66%)
FFL 17.82 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
GGL 25.17 Increased By ▲ 1.06 (4.4%)
HBL 306.67 Decreased By ▼ -0.78 (-0.25%)
HUBC 232.99 Decreased By ▼ -0.15 (-0.06%)
HUMNL 11.44 Decreased By ▼ -0.06 (-0.52%)
KEL 8.33 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 28.53 Increased By ▲ 0.34 (1.21%)
MLCF 108.48 Increased By ▲ 1.05 (0.98%)
OGDC 338.20 Increased By ▲ 3.29 (0.98%)
PAEL 45.49 Increased By ▲ 0.07 (0.15%)
PIBTL 19.06 Increased By ▲ 0.21 (1.11%)
PIOC 281.50 Increased By ▲ 1.04 (0.37%)
PPL 246.00 Increased By ▲ 2.26 (0.93%)
PRL 36.15 Decreased By ▼ -0.09 (-0.25%)
SNGP 119.10 Decreased By ▼ -0.53 (-0.44%)
SSGC 31.93 Increased By ▲ 0.08 (0.25%)
TELE 9.21 Increased By ▲ 0.19 (2.11%)
TPLP 11.40 Increased By ▲ 0.68 (6.34%)
TRG 67.50 Increased By ▲ 3.19 (4.96%)
UNITY 11.04 Increased By ▲ 0.13 (1.19%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
بی آر ریسرچ

کیا دوہندسوں کی مہنگائی کا دور ختم ہوگیا؟

  • جون میں ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی سالانہ شرح کم ہو کر 11.07 فیصد رہ گئی
شائع July 2, 2026 اپ ڈیٹ July 2, 2026 11:44am

جون میں ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی سالانہ شرح کم ہو کر 11.07 فیصد رہ گئی، جو ایک ماہ قبل 11.66 فیصد تھی۔ یہ اس بات کا پہلا واضح اشارہ ہے کہ حالیہ مہنگائی کے شدید ترین دور کا بڑا حصہ شاید اب گزر چکا ہے۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی منفی 0.3 فیصد رہی، جو دسمبر 2025 کے بعد شہری سی پی آئی میں پہلی ماہانہ کمی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے اوسط مہنگائی 7.05 فیصد پر رہی۔

جون کے اعداد و شمار مجموعی طور پر مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھے، اگرچہ چند اندرونی عوامل نے مہنگائی کو مارکیٹ کے عمومی اندازوں سے معمولی حد تک کم رکھنے میں کردار ادا کیا۔ سب سے زیادہ مثبت اثر ٹرانسپورٹ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا رہا۔ اس کے نتیجے میں، اگر کوئی بڑا جغرافیائی سیاسی یا موسمیاتی جھٹکا پیش نہ آیا تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو ہندسوں والی مہنگائی کا دور شاید اب اختتام کے قریب ہے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے نے سب سے زیادہ ریلیف فراہم کیا۔ گزشتہ ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں موٹر فیولز ذیلی اشاریے میں تاریخ کی سب سے بڑی ماہانہ کمی ریکارڈ کی گئی، سوائے اپریل 2020 میں کورونا وبا کے عروج کے دوران دیکھے گئے غیر معمولی گراوٹ کے۔

اگرچہ آئندہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اضافی پیٹرولیم لیوی صارفین پر منتقل کی گئی، تاہم اس اضافے کا حجم اتنا بڑا نہیں ہوگا کہ مجموعی طور پر مہنگائی میں کمی کے موجودہ رجحان کو تبدیل کر سکے، الا یہ کہ عالمی تیل منڈی کسی نئے بڑے بحران کا شکار ہو جائے۔

رہائش اور یوٹیلیٹیز کے شعبے نے بھی مہنگائی میں کمی کے رجحان کو سہارا دیا۔ بجلی کے نرخ ماہانہ بنیاد پر 4.3 فیصد کم ہوئے کیونکہ فی یونٹ 1.98 روپے کی منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نے فی یونٹ 1.19 روپے کے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو مکمل طور پر زائل کر دیا۔

اس وقت ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا اوسط قومی ٹیرف 25.57 روپے فی یونٹ ہے، جو مارچ 2024 میں ریکارڈ کی گئی 31.69 روپے فی یونٹ کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔ چونکہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ مزید دو ماہ تک برقرار رہے گی اور جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بھی محدود رہنے کی توقع ہے، اس لیے اگلے ماہ کے سی پی آئی میں بجلی کی قیمتوں میں مزید تقریباً 1.2 فیصد کمی متوقع ہے۔

گیس کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال اب بھی واحد اہم غیر یقینی عنصر ہے، تاہم اگر نرخوں میں کوئی نظرثانی کی گئی بھی تو توقع ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے بڑے اضافوں کے مقابلے میں کہیں کم ہوگی۔

ہیڈ لائن مہنگائی میں کمی اس حقیقت کے باوجود سامنے آئی کہ غذائی مہنگائی خاموشی سے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اگرچہ خوراک کی سالانہ مہنگائی 9 فیصد سے کم رہی، تاہم اس میں گزشتہ 27 ماہ کی تیز ترین رفتار سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ گندم کے آٹے کی قیمتیں ہیں۔

آٹے کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 30 ماہ کی بلند ترین شرح ہے۔ چونکہ آٹا غذائی اشیا کی ٹوکری میں دوسرا سب سے بڑا جزو ہے، اس لیے اس کا اثر بھی نمایاں رہا۔ تاہم حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ جون میں اس اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی اور ماہانہ بنیاد پر اضافہ مئی کے 11 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ گیا۔

جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ مہنگائی کی ٹوکری کے سب سے زیادہ غیر مستحکم اجزا میں شامل ہیں۔ سبزیوں، مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں موسمی اتار چڑھاؤ کے باعث ماہ بھر کے دوران نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، تاہم یہ تبدیلیاں عموماً عارضی نوعیت کی ہیں اور جب تک موسمی حالات شدید خراب نہ ہوں، ان سے درمیانی مدت میں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں۔

خوراک کے علاوہ سگریٹ کی قیمتوں میں گزشتہ دو برس کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ریکارڈ کی گئی، جو ٹیکسوں کی بنیاد پر قیمتوں میں مسلسل ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب ذاتی استعمال کی اشیا کے زمرے میں بین الاقوامی منڈی میں سونے اور چاندی کی نرم قیمتوں نے اشاریے کو نیچے رکھنے میں مدد دی، کیونکہ اس زمرے میں قیمتی دھاتوں کا وزن نسبتاً زیادہ ہے۔

جون کے اعداد و شمار کی ایک غیر معمولی خصوصیت شادی ہالوں کے کرایوں میں ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد کمی تھی۔ گزشتہ کم از کم سات برسوں میں ایسا رجحان دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اسی غیر معمولی عنصر نے بھی مجموعی مہنگائی کو مارکیٹ کی توقعات سے معمولی کم رکھنے میں کردار ادا کیا۔

ادھر کور مہنگائی بھی درست سمت میں گامزن رہی۔ شہری کور مہنگائی کم ہو کر 8.7 فیصد جبکہ دیہی کور مہنگائی 9.6 فیصد پر آ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکے کے دوسرے مرحلے کے اثرات بتدریج کمزور پڑ رہے ہیں۔ اس تشریح کو ہول سیل قیمتوں کے اشاریے میں ہونے والی پیش رفت بھی تقویت دیتی ہے۔

ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں ماہانہ بنیاد پر 1.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اپریل 2025 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی چین میں موجود قیمتوں کا دباؤ بڑھنے کے بجائے کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

پالیسی سازوں کے لیے مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار یقیناً خوش آئند ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی، کور مہنگائی میں اعتدال اور ہول سیل قیمتوں میں گراوٹ اس مؤقف کو مزید مضبوط بناتے ہیں کہ حالیہ مہنگائی میں اضافہ بنیادی طور پر لاگت میں اضافے کا نتیجہ تھا، نہ کہ مجموعی طلب میں وسیع پیمانے پر اضافے کا۔

اب معاشی منظرنامہ چند ماہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سازگار دکھائی دیتا ہے۔ اگر عالمی توانائی کی منڈیاں مستحکم رہیں اور کوئی بڑا موسمیاتی واقعہ ملک میں غذائی رسد کو متاثر نہ کرے تو امکان ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی ششماہی کے دوران ہیڈ لائن مہنگائی 9 فیصد سے کم رہے گی اور اس کے بعد مزید کمی آئے گی۔

تاہم ایک خطرہ اب بھی دیگر تمام خدشات پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ ایل نینو کے رونما ہونے کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور اس کے ساتھ خوراک کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ فی الحال مہنگائی واضح طور پر نیچے کی جانب گامزن ہے، لیکن یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار شاید ملکی پالیسیوں سے زیادہ موسم اور عالمی اجناس کی منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

Comments

200 حروف