BR100 Increased By (1.73%)
BR30 Increased By (1.95%)
KSE100 Increased By (1.89%)
KSE30 Increased By (1.95%)
BAFL 60.98 Increased By ▲ 0.84 (1.4%)
BIPL 27.61 Increased By ▲ 0.93 (3.49%)
BOP 36.38 Increased By ▲ 0.65 (1.82%)
CNERGY 8.33 Increased By ▲ 0.05 (0.6%)
DFML 19.66 Increased By ▲ 0.13 (0.67%)
DGKC 217.19 Decreased By ▼ -3.86 (-1.75%)
FABL 97.64 Increased By ▲ 3.05 (3.22%)
FCCL 57.51 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
GGL 23.12 Increased By ▲ 2.09 (9.94%)
HBL 302.50 Increased By ▲ 6.52 (2.2%)
HUBC 230.11 Increased By ▲ 1.35 (0.59%)
HUMNL 11.67 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 28.52 Decreased By ▼ -0.17 (-0.59%)
MLCF 97.67 Decreased By ▼ -0.46 (-0.47%)
OGDC 327.64 Increased By ▲ 3.01 (0.93%)
PAEL 43.56 Increased By ▲ 0.47 (1.09%)
PIBTL 18.35 Increased By ▲ 0.39 (2.17%)
PIOC 287.77 Decreased By ▼ -4.53 (-1.55%)
PPL 238.89 Increased By ▲ 6.11 (2.62%)
PRL 36.27 Increased By ▲ 0.58 (1.63%)
SNGP 112.94 Increased By ▲ 10.27 (10%)
SSGC 30.43 Increased By ▲ 2.77 (10.01%)
TELE 9.54 Increased By ▲ 0.35 (3.81%)
TPLP 11.27 Decreased By ▼ -0.10 (-0.88%)
TRG 70.42 Increased By ▲ 1.57 (2.28%)
UNITY 11.59 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

یکم جولائی سے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم، ایک لاکھ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز فائدہ اٹھائیں گے

  • حکومت 35 لاکھ چھوٹے دکانداروں کو اس اسکیم پر غور کرنے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے قائل کرے گی، ڈاکٹر حامد عتیق سرور
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 04:30pm

پاکستان بھر میں تقریباً ایک لاکھ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز یکم جولائی 2026 سے نئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے فی کس 25 ہزار روپے ادا کریں گے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ رکن ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ حکومت 35 لاکھ چھوٹے دکانداروں کو اس اسکیم پر غور کرنے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے قائل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ہم تقریباً ایک لاکھ ریٹیلرز کو ہدف بنائیں گے تاکہ وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت آڈٹ نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ کوئی بڑا تضاد سامنے آئے، مثلاً کسی شخص کے پاس لگژری گاڑیاں یا ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں پلاٹس موجود ہوں اور اس کی مالی معلومات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔

اس اسکیم کے تحت ایف بی آر کی جانب سے جس دکان کو مخصوص نمبر پلیٹ جاری کی جائے گی اس پر فیلڈ فارمیشن کا کوئی بھی ٹیکس افسر نہ تو دورہ کر سکے گا اور نہ ہی چھاپہ مار سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے مرحلے میں ایک لاکھ چھوٹے ریٹیلرز کو ہدف بنائے گی۔ سپر ٹیکس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد اور اداروں پر اس ٹیکس کے اطلاق سے تقریباً 400 ارب روپے کی محصولات متاثر ہوں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف