ٹرمپ: ایران کے ساتھ معاہدہ واضح پیغام ہے کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا
- ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست اور ضروری اقدام قرار دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا عبوری معاہدہ واضح طور پر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ تہران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ شام ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔
فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کا دفاع کیا، جس کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔
انہوں نے کہا، ”میرے لیے اصل بات یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اور اس معاہدے میں یہ بات واضح طور پر درج ہے،“ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ”اس کے شدید نتائج برآمد ہوں گے۔“
امریکی اور ایرانی حکام جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں تفصیلی مذاکرات شروع کریں گے، جس کے تحت 60 روزہ مدت میں پیچیدہ تکنیکی امور پر بات چیت کی جائے گی، جن میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کا مستقبل اور پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
یورپی اتحادیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم کو تجربے کی کمی کے باعث مضبوط معاہدہ طے کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جس سے تعطل طویل ہو سکتا ہے۔
2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کے بدلے پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی، تاہم ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا، ”اوباما کا معاہدہ جوہری ہتھیار کی طرف راستہ تھا، میرا معاہدہ ایک دیوار ہے جو اسے روکے گا۔“
ماہرین اور سفارت کاروں کے مطابق ایرانی مذاکرات کار جوہری سفارت کاری میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور اکثر اپنے مخالفین کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر وقت حاصل کرتے ہیں، جس سے 60 دن میں حتمی معاہدہ طے ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
لبنان کی صورتحال بھی اس معاہدے کی کامیابی کے لیے اہم عامل ہے، جہاں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی افواج اس وقت تک جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی جب تک حزب اللہ کے خلاف کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی، جبکہ ایران نے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی حکمتِ عملی پر محتاط تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ پڑوسی ملک شام، جو خانہ جنگی کے بعد استحکام کی کوششوں میں ہے، حزب اللہ کے معاملے میں بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”میں نے اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ حزب اللہ کے مسئلے کو شام کے سپرد کر دیا جائے، کیونکہ میرے خیال میں وہ یہ کام بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔“





















Comments