BR100 Increased By (1.77%)
BR30 Increased By (1.96%)
KSE100 Increased By (1.59%)
KSE30 Increased By (1.65%)
BAFL 58.99 Increased By ▲ 1.14 (1.97%)
BIPL 25.64 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 0.93 (2.76%)
CNERGY 8.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 19.08 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
DGKC 206.32 Increased By ▲ 12.22 (6.3%)
FABL 91.07 Increased By ▲ 1.18 (1.31%)
FCCL 54.40 Increased By ▲ 2.26 (4.33%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
GGL 20.80 Increased By ▲ 0.13 (0.63%)
HBL 288.35 Increased By ▲ 4.43 (1.56%)
HUBC 219.59 Increased By ▲ 7.11 (3.35%)
HUMNL 11.07 Increased By ▲ 0.03 (0.27%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.21 (2.68%)
LOTCHEM 28.77 Decreased By ▼ -0.19 (-0.66%)
MLCF 90.52 Increased By ▲ 4.01 (4.64%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 1.79 (0.57%)
PAEL 41.07 Increased By ▲ 1.11 (2.78%)
PIBTL 17.51 Increased By ▲ 0.24 (1.39%)
PIOC 278.98 Increased By ▲ 11.40 (4.26%)
PPL 225.84 Increased By ▲ 3.17 (1.42%)
PRL 34.63 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 100.42 Increased By ▲ 1.33 (1.34%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.30 (1.12%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.90 Decreased By ▼ -0.30 (-2.68%)
TRG 69.78 Decreased By ▼ -0.81 (-1.15%)
UNITY 11.52 Increased By ▲ 0.08 (0.7%)
WTL 1.27 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

خراب موسم کے باعث کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل ہفتے تک مؤخر

  • وفاقی جج نے کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 06:01pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فائلنگ میں کہا ہے کہ کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل خراب موسم کے باعث مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ موسمی صورتحال کارکنوں کے لیے ممکنہ حفاظتی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کارروائی ہفتے کی صبح تک مکمل کر لی جائے گی۔

اس سے قبل اسی روز واشنگٹن میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ کا نام ہٹانے کے حکم پر عارضی التواء کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر نے کہا کہ وہ اس حکم کو معطل نہیں کریں گے جب تک کہ وفاقی اپیل کورٹ ان کے اس فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے مطابق صرف کانگریس ہی واشنگٹن میں واقع اس مقام کا نام تبدیل کر سکتی ہے جو سابق صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں منسوب ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف امریکی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے بھی جمعہ کے روز حکومت کی جانب سے عارضی روک کی استدعا مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں شامل اوہائیو سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جوائس بیٹی کے وکلاء نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ”قانون واضح ہے: کینیڈی سینٹر کا نام صرف کانگریس ہی تبدیل کر سکتی ہے۔“

ڈیمنو کریسی ڈیفینڈرز ایکشن کے شریک بانی نورم آئزن اور واشنگٹن لٹیگیشن گروپ کے نیتھنئیل زیلنسکی نے کہا کہ وہ آئندہ اقدامات کے منتظر ہیں، تاہم ان کے مطابق ٹرمپ کی ”بڑھتی ہوئی بے چینی“ اس معاملے کو مزید تماشے میں تبدیل کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس اور کینیڈی سینٹر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

جج کوپر نے 29 مئی کو فیصلہ سنایا تھا کہ کینیڈی سینٹر کا نام تبدیل کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ ان کے حکم کے مطابق صدر ٹرمپ کا نام عمارت کے بیرونی حصے، ویب سائٹ اور دیگر مواد سے جمعہ کی رات 11:59 بجے تک ہٹا دیا جانا تھا۔

انتظامیہ کے وکلاء نے اپیل کورٹ سے حکم پر عارضی روک کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”اس وقت سینٹر کے نام اور سائن بورڈز میں تبدیلی کرنا منطقی نہیں، کیونکہ ممکن ہے اپیل کامیاب ہونے کے بعد دوبارہ پرانا نام بحال کرنا پڑے۔“

کینیڈی سینٹر 1971 میں سابق صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں قائم کیا گیا تھا، جنہیں 1963 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے بورڈ کے کئی ارکان کی تبدیلی کے بعد اس گروپ نے دسمبر میں سینٹر کے نام میں ان کا نام شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

فروری میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ مرکز کی بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے لیے اسے دو سال کے لیے بند کیا جائے گا۔ ریپبلکن رہنما نے واشنگٹن کے مرکزی یادگاری ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کے لیے وسیع تر منصوبے بھی پیش کیے ہیں، جن میں 250 فٹ بلند ایک محراب اور وائٹ ہاؤس کے مسمار شدہ ایسٹ ونگ کی جگہ 90 ہزار مربع فٹ کا ایک بڑا بال روم شامل ہے۔

Comments

200 حروف