BR100 Decreased By (-0.81%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 59.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.18%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 34.11 Decreased By ▼ -1.17 (-3.32%)
CNERGY 12.84 Decreased By ▼ -0.29 (-2.21%)
DFML 18.25 Increased By ▲ 0.17 (0.94%)
DGKC 213.02 Decreased By ▼ -3.99 (-1.84%)
FABL 98.99 Decreased By ▼ -0.96 (-0.96%)
FCCL 57.66 Decreased By ▼ -0.31 (-0.53%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.22 (-1.34%)
GGL 23.80 Decreased By ▼ -0.56 (-2.3%)
HBL 333.71 Increased By ▲ 7.50 (2.3%)
HUBC 211.43 Decreased By ▼ -1.99 (-0.93%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.29 (-2.68%)
KEL 7.48 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 100.65 Decreased By ▼ -2.33 (-2.26%)
OGDC 320.29 Decreased By ▼ -3.49 (-1.08%)
PAEL 43.12 Decreased By ▼ -0.78 (-1.78%)
PIBTL 16.56 Decreased By ▼ -0.12 (-0.72%)
PIOC 271.73 Decreased By ▼ -4.46 (-1.61%)
PPL 228.84 Decreased By ▼ -0.63 (-0.27%)
PRL 71.02 Increased By ▲ 0.91 (1.3%)
SNGP 102.22 Decreased By ▼ -1.44 (-1.39%)
SSGC 26.68 Decreased By ▼ -0.43 (-1.59%)
TELE 8.61 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 15.11 Decreased By ▼ -0.57 (-3.64%)
TRG 59.84 Decreased By ▼ -1.29 (-2.11%)
UNITY 12.05 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

خراب موسم کے باعث کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل ہفتے تک مؤخر

  • وفاقی جج نے کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فائلنگ میں کہا ہے کہ کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل خراب موسم کے باعث مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ موسمی صورتحال کارکنوں کے لیے ممکنہ حفاظتی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کارروائی ہفتے کی صبح تک مکمل کر لی جائے گی۔

اس سے قبل اسی روز واشنگٹن میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ کا نام ہٹانے کے حکم پر عارضی التواء کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر نے کہا کہ وہ اس حکم کو معطل نہیں کریں گے جب تک کہ وفاقی اپیل کورٹ ان کے اس فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے مطابق صرف کانگریس ہی واشنگٹن میں واقع اس مقام کا نام تبدیل کر سکتی ہے جو سابق صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں منسوب ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف امریکی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے بھی جمعہ کے روز حکومت کی جانب سے عارضی روک کی استدعا مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں شامل اوہائیو سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جوائس بیٹی کے وکلاء نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ”قانون واضح ہے: کینیڈی سینٹر کا نام صرف کانگریس ہی تبدیل کر سکتی ہے۔“

ڈیمنو کریسی ڈیفینڈرز ایکشن کے شریک بانی نورم آئزن اور واشنگٹن لٹیگیشن گروپ کے نیتھنئیل زیلنسکی نے کہا کہ وہ آئندہ اقدامات کے منتظر ہیں، تاہم ان کے مطابق ٹرمپ کی ”بڑھتی ہوئی بے چینی“ اس معاملے کو مزید تماشے میں تبدیل کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس اور کینیڈی سینٹر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

جج کوپر نے 29 مئی کو فیصلہ سنایا تھا کہ کینیڈی سینٹر کا نام تبدیل کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ ان کے حکم کے مطابق صدر ٹرمپ کا نام عمارت کے بیرونی حصے، ویب سائٹ اور دیگر مواد سے جمعہ کی رات 11:59 بجے تک ہٹا دیا جانا تھا۔

انتظامیہ کے وکلاء نے اپیل کورٹ سے حکم پر عارضی روک کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”اس وقت سینٹر کے نام اور سائن بورڈز میں تبدیلی کرنا منطقی نہیں، کیونکہ ممکن ہے اپیل کامیاب ہونے کے بعد دوبارہ پرانا نام بحال کرنا پڑے۔“

کینیڈی سینٹر 1971 میں سابق صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں قائم کیا گیا تھا، جنہیں 1963 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے بورڈ کے کئی ارکان کی تبدیلی کے بعد اس گروپ نے دسمبر میں سینٹر کے نام میں ان کا نام شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

فروری میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ مرکز کی بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے لیے اسے دو سال کے لیے بند کیا جائے گا۔ ریپبلکن رہنما نے واشنگٹن کے مرکزی یادگاری ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کے لیے وسیع تر منصوبے بھی پیش کیے ہیں، جن میں 250 فٹ بلند ایک محراب اور وائٹ ہاؤس کے مسمار شدہ ایسٹ ونگ کی جگہ 90 ہزار مربع فٹ کا ایک بڑا بال روم شامل ہے۔

Comments

200 حروف