BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Increased By (0.28%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.16 Decreased By ▼ -1.57 (-2.63%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.23 (0.85%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 13.11 Increased By ▲ 0.27 (2.1%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.66 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.56 Increased By ▲ 0.57 (0.58%)
FCCL 58.06 Increased By ▲ 0.40 (0.69%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.03 (0.19%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 338.16 Increased By ▲ 4.45 (1.33%)
HUBC 213.36 Increased By ▲ 1.93 (0.91%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.06 (0.57%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.05 (-0.67%)
LOTCHEM 27.67 Decreased By ▼ -0.32 (-1.14%)
MLCF 102.75 Increased By ▲ 2.10 (2.09%)
OGDC 318.92 Decreased By ▼ -1.37 (-0.43%)
PAEL 43.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.05%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 1.27 (0.47%)
PPL 229.45 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 70.80 Decreased By ▼ -0.22 (-0.31%)
SNGP 104.58 Increased By ▲ 2.36 (2.31%)
SSGC 27.41 Increased By ▲ 0.73 (2.74%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.93%)
TPLP 15.76 Increased By ▲ 0.65 (4.3%)
TRG 60.29 Increased By ▲ 0.45 (0.75%)
UNITY 11.72 Decreased By ▼ -0.33 (-2.74%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)
دنیا

خراب موسم کے باعث کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل ہفتے تک مؤخر

  • وفاقی جج نے کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فائلنگ میں کہا ہے کہ کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا عمل خراب موسم کے باعث مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ موسمی صورتحال کارکنوں کے لیے ممکنہ حفاظتی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ توقع ہے کہ یہ کارروائی ہفتے کی صبح تک مکمل کر لی جائے گی۔

اس سے قبل اسی روز واشنگٹن میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ کا نام ہٹانے کے حکم پر عارضی التواء کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر نے کہا کہ وہ اس حکم کو معطل نہیں کریں گے جب تک کہ وفاقی اپیل کورٹ ان کے اس فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے مطابق صرف کانگریس ہی واشنگٹن میں واقع اس مقام کا نام تبدیل کر سکتی ہے جو سابق صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں منسوب ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف امریکی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اپیل کورٹ میں درخواست دائر کی، تاہم عدالت نے بھی جمعہ کے روز حکومت کی جانب سے عارضی روک کی استدعا مسترد کر دی۔

اس مقدمے میں شامل اوہائیو سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جوائس بیٹی کے وکلاء نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ”قانون واضح ہے: کینیڈی سینٹر کا نام صرف کانگریس ہی تبدیل کر سکتی ہے۔“

ڈیمنو کریسی ڈیفینڈرز ایکشن کے شریک بانی نورم آئزن اور واشنگٹن لٹیگیشن گروپ کے نیتھنئیل زیلنسکی نے کہا کہ وہ آئندہ اقدامات کے منتظر ہیں، تاہم ان کے مطابق ٹرمپ کی ”بڑھتی ہوئی بے چینی“ اس معاملے کو مزید تماشے میں تبدیل کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس اور کینیڈی سینٹر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

جج کوپر نے 29 مئی کو فیصلہ سنایا تھا کہ کینیڈی سینٹر کا نام تبدیل کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ ان کے حکم کے مطابق صدر ٹرمپ کا نام عمارت کے بیرونی حصے، ویب سائٹ اور دیگر مواد سے جمعہ کی رات 11:59 بجے تک ہٹا دیا جانا تھا۔

انتظامیہ کے وکلاء نے اپیل کورٹ سے حکم پر عارضی روک کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”اس وقت سینٹر کے نام اور سائن بورڈز میں تبدیلی کرنا منطقی نہیں، کیونکہ ممکن ہے اپیل کامیاب ہونے کے بعد دوبارہ پرانا نام بحال کرنا پڑے۔“

کینیڈی سینٹر 1971 میں سابق صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں قائم کیا گیا تھا، جنہیں 1963 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے بورڈ کے کئی ارکان کی تبدیلی کے بعد اس گروپ نے دسمبر میں سینٹر کے نام میں ان کا نام شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

فروری میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ مرکز کی بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے لیے اسے دو سال کے لیے بند کیا جائے گا۔ ریپبلکن رہنما نے واشنگٹن کے مرکزی یادگاری ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کے لیے وسیع تر منصوبے بھی پیش کیے ہیں، جن میں 250 فٹ بلند ایک محراب اور وائٹ ہاؤس کے مسمار شدہ ایسٹ ونگ کی جگہ 90 ہزار مربع فٹ کا ایک بڑا بال روم شامل ہے۔

Comments

200 حروف