یکم جولائی سے جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بڑی کمی متوقع
- رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق اس اعلان کا امکان ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ تقریر کے دوران کریں گے۔
فنانس بل 2026 کے تحت یکم جولائی 2026 سے غیر منقولہ جائیدادوں (اموویبل پراپرٹیز) کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کا اعلان متوقع ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق اس اعلان کا امکان ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ تقریر کے دوران کریں گے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق اس تجویز کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، وزیر اعظم آفس اور وزارت خزانہ سے منظوری حاصل ہو چکی ہے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بجٹ 2026-27 میں برآمد کنندگان کے لیے متوقع ہنگامی پیکیج میں متعدد ٹیکس مراعات شامل ہو سکتی ہیں، جن میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنا، نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میں تبدیل کرنا اور ڈیوٹی ڈرا بیک آن لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز سے متعلق برآمد کنندگان کے مسائل کا حل شامل ہے۔
برآمد کنندگان کے لیے اعلان کردہ ایمرجنسی پیکیج کے تحت مجموعی ٹیکس بوجھ میں کمی کی جا سکتی ہے تاکہ برآمدی شعبے کو درپیش ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے، کیونکہ اس شعبے پر پہلے ہی 45 فیصد سے زائد اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔
صنعتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) نے ملکی برآمدات میں اضافے اور پاکستانی مصنوعات کو معیار اور قیمت دونوں حوالوں سے عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دھاگے (یارن) اور کپڑے (فیبرک) کو ای ایف ایس سے نکالنے کے فیصلے سے ان اشیا کی درآمدی مقدار پر تو بہت کم اثر پڑا، لیکن اس اقدام نے برآمد کنندگان کی لیکویڈیٹی کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ان کی کاروبار میں مزید سرمایہ کاری کی صلاحیت کمزور ہوئی۔
صنعتی شعبے نے تجویز دی ہے کہ ای ایف ایس کو اضافی چیکس اینڈ بیلنس کے ساتھ اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے تاکہ کسی قسم کے غلط استعمال کا امکان نہ رہے اور یہ بھی یقینی بنایا جا سکے کہ غیر برآمدی مینوفیکچررز کسی بھی ممکنہ بدانتظامی سے متاثر نہ ہوں۔
اعلیٰ ٹیکس حکام کے مطابق آئندہ بجٹ 2026-27 میں برآمدات پر عائد ایک فیصد ٹیکس ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے، جو برآمد کنندگان کے لیے مجوزہ پیکیج کا حصہ ہوگا۔
فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا، جس میں ایک فیصد منیمم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل تھا، جو برآمدی رقوم کی وصولی کے وقت الیکٹرانک طریقے سے منبع پر ہی کٹوتی کیا جاتا ہے۔
صنعتی شعبے نے تجویز دی ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو ایک اختیاری نظام کے طور پر بحال کیا جائے، جس کے تحت ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس برقرار رکھا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور نقصان برداشت کرنے والے برآمد کنندگان کو شفاف طریقہ کار کے تحت ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔
صنعتی نمائندوں کا مزید کہنا ہے کہ جو برآمد کنندگان نارمل ٹیکس رجیم میں رہنا چاہتے ہیں، انہیں ایف بی آر کی جانب سے کسی بھی غیر ضروری ہراسانی سے تحفظ دیا جانا چاہیے، اور اس مقصد کے لیے ان کے حقوق کے تحفظ کی خاطر ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جانی چاہیے۔

























Comments