آٹو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 31-2026: پاپام کا حکومت سے فوری مذاکرات کا مطالبہ
- آٹو پالیسی پر نیشنل ٹیرف پالیسی کی دفعات کے اطلاق سے مقامی صنعت کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، چیئرمین عثمان اسلم ملک
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِاعظم سینیٹر اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ آٹو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 2026-31 کو حتمی شکل دینے سے قبل انہیں فوری سماعت کا موقع فراہم کیا جائے۔
نائب وزیرِاعظم کو لکھے گئے خط میں پاپام نے مؤقف اختیار کیا کہ آٹو پارٹس کا شعبہ 18 لاکھ سے زائد افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، قومی جی ڈی پی میں تقریباً 3 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
توانائی کے بلند ٹیرف، فنانسنگ کی زیادہ لاگت، خراب لاجسٹکس صورتحال اور مختلف ٹیکسوں و ڈیوٹیز کے باعث علاقائی حریفوں کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد لاگت کے نقصان کے باوجود اس شعبے نے سالانہ تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کی برآمدات حاصل کی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ یہ کارکردگی اس وقت حاصل ہوئی جب کلیدی منڈیوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کی عدم موجودگی، محدود برآمدی مراعات اور سیکیورٹی سے متعلق مسلسل منفی تاثر جیسے سازگار عوامل موجود نہیں تھے۔
پاپام کے چیئرمین عثمان اسلم ملک نے خبردار کیا کہ آئندہ آٹو پالیسی پر نیشنل ٹیرف پالیسی کی دفعات کے اطلاق سے مقامی صنعت کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ان میں دہائیوں کے دوران حاصل کیے گئے لوکلائزیشن کے فوائد کا رائیگاں جانا، روزگار کو فوری خطرات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کا کمزور ہونا اور پاکستان کے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ بیس کو نقصان پہنچنا شامل ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments