آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ پر کاروباری برادری کے تحفظات، عدم اعتماد کا اظہار
- حکومت سے برآمدات پر مبنی ترقی کا بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ
پاکستانی کاروباری برادری نے آئندہ بجٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت پرانے طرز کا، بھاری ٹیکسوں پر مبنی بجٹ پیش کرتی رہی اور اس کی بنیادی توجہ غیرحقیقی ٹیکس وصولی اہداف کے تعین اور حصول پر مرکوز رہی تو برآمدی آمدن میں مسلسل کمی آتی رہے گی۔
کاروباری نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ مالی سال 27-2026 کے دوران برآمدات کا حجم بڑھا کر 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے بجٹ کی تیاری میں صنعت و تجارت کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے آئندہ مالی سال (27-2026) کے لیے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے بجٹ سے متعلق اپنی تجاویز حکومت کو پیش کر دی ہیں۔“
ثاقب فیاض مگوں، جو بزنس مین پینل پروگریسو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ ”اگر آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں صنعتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے کے مطابق مسابقتی نرخوں پر توانائی (بجلی اور گیس) فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے، کاروبار کرنے کی لاگت ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے کم کی جائے اور بینکوں سے حاصل کی جانے والی مالی معاونت پر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے تو ہم باآسانی برآمدی آمدن 50 سے 60 ارب ڈالر تک بڑھا سکتے ہیں۔“
اہم مطالبات
- بجٹ کی تیاری میں صنعت و تجارت کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
- برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کا بجٹ پیش کیا جائے۔
- غیرحقیقی اور بھاری ٹیکس وصولی اہداف مقرر کرنے سے گریز کیا جائے۔
- نئے برآمد کنندگان کے لیے مراعات متعارف کرائی جائیں۔
- جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح موجودہ 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کی جائے۔
- سپر ٹیکس ختم کیا جائے۔
- فاٹا اور پاٹا کے لیے دی گئی مراعات کو معقول اور متوازن بنایا جائے۔
- صنعتی مزدوروں کی ماہانہ اجرتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کیا جائے۔
- تنخواہ دار طبقے کے لیے ماہانہ ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد بڑھا کر ایک لاکھ روپے کی جائے۔
اگر حکومت پرانے طرز کے، بھاری ٹیکسوں پر مبنی بجٹ پیش کرتی رہی اور اس کی بنیادی توجہ غیر حقیقی ٹیکس وصولی اہداف کے تعین اور ان کے حصول پر مرکوز رہی تو برآمدی آمدن میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا، انہوں نے مؤقف اختیار کیا۔
ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ”اس طرزِ عمل کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اس کے بجائے حکومت کو مقامی پیداوار کے فروغ، درآمدات میں کمی (امپورٹ سبسٹی ٹیوشن) اور برآمدات پر مبنی ترقی پر توجہ دینی چاہیے، جس کے لیے صنعتوں کو مراعات دی جائیں اور ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی جائے۔“
ایف پی سی سی آئی کے عہدیدار نے مزید کہا کہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ میں ملک کی برآمدات 5.6 فیصد کمی کے ساتھ 27.9 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 29.56 ارب ڈالر تھیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ”مالی سال 27-2026 میں برآمدات میں مزید 20 سے 30 فیصد کمی بھی ہو سکتی ہے۔“
ان کا کہنا تھا کہ حکومت تقریباً ہر سال کاروباری برادری کو بجٹ تجاویز دینے کی دعوت دیتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان تجاویز کو قبول کیا گیا یا مسترد۔ انہوں نے کہا کہ یہ روایت ختم ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو حقیقی طور پر شامل کرنا چاہیے اور برآمدات، اقتصادی ترقی اور ٹیکس وصولی کے اہداف مشاورت سے طے کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق موجودہ طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کیا جاتا ہے۔
مگوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات نئے برآمد کنندگان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق نئے ایکسپورٹرز کو ابتدائی برسوں میں خصوصی مراعات دی جانی چاہئیں تاکہ وہ مستحکم ہو سکیں۔
انہوں نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کی تجویز دی اور آئی ایم ایف کی اس سفارش کو مسترد کیا جس میں اسے 19 فیصد تک بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے عہدیدار نے سپر ٹیکس کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا، خاص طور پر صنعتوں پر سے، تاکہ صنعتی ترقی اور مجموعی معاشی نمو کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے فاٹا اور پاٹا کے لیے دی جانے والی مراعات کو بھی ازسرِنو ترتیب دینے کی تجویز دی اور کہا کہ ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ان علاقوں کو مراعات پیداوار اور آبادی کے تناسب سے دی جانی چاہئیں۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صنعتی شعبے اور کمرشل درآمد کنندگان کے درمیان ٹیکس میں 6 سے 7 فیصد کا فرق موجود ہے، جسے کم از کم پلاسٹک، اسٹیل، مصنوعی لیدر اور پولیسٹر یارن جیسی صنعتوں کے لیے متوازن کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مزدوروں کی ماہانہ اجرتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ مہنگائی کے اثرات کو بہتر طور پر برداشت کر سکیں۔
کاروباری شخصیت امان پراچہ نے حکومت کو تجویز دی کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ماہانہ ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد بڑھا کر ایک لاکھ روپے کی جائے، جبکہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد مقرر کی جائے۔
کاروباری شخصیت شبیر منشا نے حکومت سے پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے اہداف کے حوالے سے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق ٹیکس دہندگان اور ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے صنعتوں کو سولر توانائی کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دی، تاہم اب انہی پر ٹیکس بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاست نے گزشتہ 70 برس تک رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی، لیکن گزشتہ پانچ برسوں سے اسے غیر پیداواری قرار دیا جا رہا ہے۔ شبیر منشا نے مزید کہا کہ کورونا کے دوران حکومت نے ٹی ای آر ایف (عارضی اقتصادی ری فنانس سہولت) کے تحت 2 سے 3 فیصد شرح سود پر سرمایہ فراہم کیا، جبکہ اب اسی مالی معاونت پر 11 فیصد شرح عائد کی جا رہی ہے۔






















Comments