جب تک ایرانی حقوق محفوظ نہیں، امریکہ سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی، تہران
- ایرانی عوام کے حقوق سلب کرنے والا کوئی بھی امریکی معاہدہ قبول نہیں کریں گے، چیف مذاکرات کار کا عزم
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ ایسے کسی بھی معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا جو ایرانیوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ہم اس وقت تک کسی بھی معاہدے کی منظوری نہیں دیں گے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ ایرانی عوام کے حقوق کو برقرار رکھا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مذاکرات کار نہ تو دشمن کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے وعدوں پر۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور واشنگٹن کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی اور 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کے فریم ورک پر تجاویز کا تبادلہ جاری ہے۔
گزشتہ روز (ہفتہ کو) نیویارک ٹائمز اور ایکسیوس نیوز میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے غور و خوض کے لیے ایک نیا فریم ورک تہران واپس بھیجا ہے، جس میں سخت ترین شرائط شامل ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان شرائط میں کیا کچھ شامل ہے۔
ایران، امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے تحت اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور غیر ملکی بینکوں میں منجمد اپنے اثاثوں کی بحالی کو اپنے ان بنیادی حقوق میں شمار کرتا ہے جن کی ضمانت دی جانی چاہیے۔
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر اپنا سخت کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جو کہ عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے اور ایران اس آبی گزرگاہ سے ہونے والی جہاز رانی کی نگرانی کو اپنا قانونی حق سمجھتا ہے۔

























Comments