امریکہ اور ایران متفق ہوگئے ہیں کہ جنگ بندی کو عارضی طور پر بڑھایا جائے گا تاہم یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی منظوری کے بعد ہی نافذ ہوگا، یہ پیشرفت ایران کی جانب سے کویت میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آئی ہے جو ایران نے ان امریکی حملوں کے جواب میں کیا تھا جسے واشنگٹن نے ایرانی ڈرون آپریشن قرار دیا تھا۔
معاملے سے واقف چار ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اب بھی صدر ٹرمپ کی منظوری درکار ہے۔
معاہدے کے مطابق ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کا طریقہ کار طے کیا جائے گا جو 60 روزہ مدت کے دوران سب سے پہلے زیرِ بحث آنے والے اہم معاملات میں شامل ہوگا، اس خبر کو سب سے پہلے ایکسائیوس نے رپورٹ کیا تھا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
ان رپورٹس کے سامنے آتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا رخ بدل گیا اور ان میں کمی دیکھی گئی کیونکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں پیدا ہوگئی ہیں جو دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی تیل اور ایل این جی کی سپلائی کے لیے ایک کلیدی تجارتی گزرگاہ ہے۔
























Comments