تین تیل اور ایل این جی ٹینکرز آبنائے ہرمز سے ٹرانسپونڈرز بند کر کے نکل گئے
- ایل ایس ای جی اور کپلر کے مطابق یہ بحری جہاز بھارت اور چین کی جانب روانہ ہوئے ہیں
آبنائے ہرمز سے تیل اور ایل این جی کی ترسیل سے متعلق اہم پیش رفت میں دو سپر ٹینکرز اور ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹینکر نے اس ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز کو عبور کیا، تاہم ان کے ٹرانسپونڈرز بند تھے۔ شپنگ ڈیٹا کمپنیز ایل ایس ای جی اور کپلر کے مطابق یہ بحری جہاز بھارت اور چین کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ویری لارج کروڈ کیریئر (وی ایل سی سی) ایگل ویراکروز سعودی عرب سے فروری کے آخر میں 2 ملین بیرل خام تیل لے کر چلا تھا اور اب یہ چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کی بندرگاہ چوانژو کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں سینوکیم کی ریفائنری واقع ہے۔ جہاز کی 16 جون کو وہاں آمد متوقع ہے۔
اسی طرح دوسرا وی ایل سی سی نیسوس کیروس متحدہ عرب امارات سے تقریباً 1.8 ملین بیرل خام تیل لے کر بھارت کی بندرگاہ وشاکھاپٹنم کی جانب رواں ہے، جہاں ہندوستان پٹرولیم کی ریفائنری موجود ہے۔ یہ جہاز 3 جون کو پہنچنے کی توقع ہے۔
چینی پرچم بردار جہاز ہوا لن وان بھی خلیج سے نکل کر جنوبی چین کی بندرگاہ ہویژو کی طرف جا رہا ہے، جو ناپتھا لے کر جا رہا ہے۔ اس کی آمد 12 جون کو متوقع ہے۔
دوسری جانب ایل این جی ٹینکر ام القشطان بھی عمان کے ساحل کے قریب مشرق کی طرف سفر کرتا دیکھا گیا ہے، جو بھارت کی طرف روانہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بعد سے آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، حالانکہ یہ راستہ دنیا کی تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جنگ سے پہلے یہاں روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے، تاہم اب صورتحال غیر یقینی ہے اور خلیج میں ہزاروں ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔

























Comments