پاکستان نے دو دہائی بعد آف شور تیل و گیس کی تلاش بحال کر دی
- حکومت نے آف شور بلاکس کے لیے پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس (پی ایس ایز) اور ایکسپلوریشن لائسنسز (ای ایلز) پر دستخط کر دیے
پاکستان کی آف شور (سمندری) توانائی کی سرحد کو تقریباً دو دہائیوں بعد بدھ کے روز باضابطہ طور پر دوبارہ کھول دیا گیا، جب حکومت نے آف شور بلاکس کے لیے پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس (پی ایس ایز) اور ایکسپلوریشن لائسنسز (ای ایلز) پر دستخط کر دیے۔
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت دیے گئے بلاکس کے پی ایس ایز اور ای ایلز کی دستخطی تقریب میں شرکت کی، یہ بات ایک سرکاری اعلامیے میں کہی گئی۔
تفویض کیے گئے بلاکس سندھ اور بلوچستان کے علاقائی پانیوں سے ملحقہ انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں واقع ہیں۔ آف شور بڈ راؤنڈ 2025 میں پاکستان کے تقریباً 54,600 مربع کلومیٹر آف شور علاقے کے لیے بولیاں موصول ہوئیں، جس کے نتیجے میں 23 آف شور بلاکس کی الاٹمنٹ ہوئی۔
اسی بڈ راؤنڈ کے تحت دو آف شور بلاکس، آف شور ڈیپ-سی اور آف شور ڈیپ-ایف، پہلے ہی 2 دسمبر 2025 کو وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ماری انرجیز لمیٹڈ، ترک پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (ٹی پی او سی) اور فاطمہ پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کو دیے جا چکے تھے۔
بیان کے مطابق، آج بقیہ 21 پی ایس ایز پر دستخط کے بعد پورے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تمام بلاکس کا معاہداتی ڈھانچہ مکمل ہو گیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے اس دستخط کو حکومت کی جانب سے آف شور ایکسپلوریشن کو بحال کرنے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے پاکستان کے آف شور اپ اسٹریم پوٹینشل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں، جو کہ 282,623 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک ایسا خطہ ہے جہاں آزادی کے بعد سے اب تک صرف 18 ایکسپلوریٹری کنویں کھودے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آف شور بڈ راؤنڈ کی کامیاب تکمیل حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ شفاف اور سرمایہ کار دوست ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے پاکستان کو ایک قابل اعتماد اور مسابقتی آف شور سرمایہ کاری منزل کے طور پر پیش کرے۔
اس میں آف شور پیٹرولیم رولز کا نفاذ اور ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ کا تعارف شامل ہے، جسے بڈ پیکج میں شامل کیا گیا تاکہ شفافیت، مسابقت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو۔
ماری انرجیز لمیٹڈ 23 آف شور بلاکس میں سب سے زیادہ سرگرم کمپنی کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 بلاکس دیگر ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر شامل ہیں۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کو بھی 8، 8 ایکسپلوریشن بلاکس دیے گئے ہیں، جن میں سے 2 بلاکس وہ بطور آپریٹر چلا رہے ہیں۔
پرائم گلوبل انرجیز لمیٹڈ کو بھی ایک بلاک بطور آپریٹر دیا گیا ہے۔ یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (یو ای پی) اور اورینٹ پیٹرولیم انکارپوریٹڈ (او پی آئی) سمیت دیگر جوائنٹ وینچر پارٹنرز نے بھی اس تقریب میں حصہ لیا۔
مجموعی طور پر ان بلاکس میں ابتدائی تین سالہ لائسنس کے فیز-ون کے دوران تقریباً 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اگر ایکسپلوریشن فیز-ٹو ڈرلنگ تک پہنچتی ہے تو مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے، یہ بات اعلامیے میں کہی گئی۔
اعلامیے کے مطابق فیز-ون میں وسیع ارضیاتی اور جیو فزیکل اسٹڈیز شامل ہوں گی، جن میں سیسمک ڈیٹا کا حصول، پروسیسنگ اور تشریح شامل ہے، تاکہ پاکستان کے آف شور بیسنز میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ مثبت نتائج کی صورت میں فیز-ٹو میں ممکنہ آف شور علاقوں میں ایکسپلوریٹری کنویں کھودے جائیں گے۔
مزید یہ کہ کامیاب بولی دہندگان نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سماجی بہبود اور استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں کے لیے بھی اہم ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔
اگر تجارتی سطح پر ہائیڈروکاربن کی دریافت ہو جاتی ہے تو اس کے بعد اربوں ڈالر کی مزید سرمایہ کاری متوقع ہے، جو فیلڈ ڈویلپمنٹ، پیداوار اور اپریزل سرگرمیوں میں استعمال ہوگی۔ یہ اقدامات روزگار کے مواقع پیدا کریں گے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیں گے اور پاکستان کے توانائی کے درآمدی بل میں کمی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں عالمی سطح کی بڑی تیل کمپنیوں کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور کئی عالمی توانائی کمپنیاں پہلے ہی آف شور ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیں۔

























Comments