BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

حکومتِ پاکستان نے 35 نئی زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

  • ان ادویات میں کینسر، امراضِ قلب اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے جمعہ کے روز 35 جدید اور زندگی بچانے والی ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے تعین کا طویل انتظار کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ بات ذرائع نے بتائی ہے۔

ان ادویات میں کینسر، امراضِ قلب اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں شامل ہیں۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر کے مطابق ’’اس نوٹیفکیشن کے بعد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ان ادویات کی کمرشل پیداوار اور/یا درآمد شروع کرنے میں سہولت مل گئی ہے۔ یہ عمل مکمل ہو کر ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی میں ایک سے دو ماہ لگ سکتے ہیں۔‘‘

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’’زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت ان ادویات پر لاگو نہیں ہوگی جن کی رجسٹریشن رول 29 کے ذیلی قاعدہ (4) کے تحت اس نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل جاری کی جا چکی ہے، جب تک کہ واضح طور پر اس کے برعکس نہ کہا گیا ہو۔‘‘

ذرائع کے مطابق حکومت اب دوسرے مرحلے میں مزید 45 اہم اور جدید ادویات کی قیمتوں کے تعین پر غور کرے گی، کیونکہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر 80 ادویات کی رجسٹریشن اور قیمتوں کے تعین کے لیے درخواستیں دی گئی تھیں۔

صنعتی ماہرین کے مطابق قیمتوں کے تعین اور نوٹیفکیشن کے اجرا سے ان اہم علاج معالجے کی دستیابی بہتر ہونے کی توقع ہے، جو طویل تاخیر کے باعث مریضوں کے لیے یا تو دستیاب نہیں تھے یا پھر مہنگی اور غیر قانونی/غیر منظم اسمگل شدہ ادویات پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔

یہ نوٹیفکیشن فارماسیوٹیکل صنعت کو ان ادویات کی دیگر ممالک کو برآمد کی اجازت بھی فراہم کرے گا۔

دریں اثنا، وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان آئندہ چند ماہ میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس کے بعد مقامی دوا ساز کمپنیوں کو اپنی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

مزید برآں، پاکستان کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے چینی اداروں کے ساتھ 10 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ادویات کے خام مال (اے پی آئی/ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس) کی مقامی پیداوار کی راہ ہموار ہو گی۔

ان معاہدوں کے ذریعے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تعاون قائم کیا جائے گا۔

Comments

200 حروف