حکومتِ پاکستان نے 35 نئی زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
- ان ادویات میں کینسر، امراضِ قلب اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات شامل ہیں
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے جمعہ کے روز 35 جدید اور زندگی بچانے والی ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے تعین کا طویل انتظار کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ بات ذرائع نے بتائی ہے۔
ان ادویات میں کینسر، امراضِ قلب اور ٹائیفائڈ کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں شامل ہیں۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر کے مطابق ’’اس نوٹیفکیشن کے بعد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ان ادویات کی کمرشل پیداوار اور/یا درآمد شروع کرنے میں سہولت مل گئی ہے۔ یہ عمل مکمل ہو کر ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی میں ایک سے دو ماہ لگ سکتے ہیں۔‘‘
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’’زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت ان ادویات پر لاگو نہیں ہوگی جن کی رجسٹریشن رول 29 کے ذیلی قاعدہ (4) کے تحت اس نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل جاری کی جا چکی ہے، جب تک کہ واضح طور پر اس کے برعکس نہ کہا گیا ہو۔‘‘
ذرائع کے مطابق حکومت اب دوسرے مرحلے میں مزید 45 اہم اور جدید ادویات کی قیمتوں کے تعین پر غور کرے گی، کیونکہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر 80 ادویات کی رجسٹریشن اور قیمتوں کے تعین کے لیے درخواستیں دی گئی تھیں۔
صنعتی ماہرین کے مطابق قیمتوں کے تعین اور نوٹیفکیشن کے اجرا سے ان اہم علاج معالجے کی دستیابی بہتر ہونے کی توقع ہے، جو طویل تاخیر کے باعث مریضوں کے لیے یا تو دستیاب نہیں تھے یا پھر مہنگی اور غیر قانونی/غیر منظم اسمگل شدہ ادویات پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔
یہ نوٹیفکیشن فارماسیوٹیکل صنعت کو ان ادویات کی دیگر ممالک کو برآمد کی اجازت بھی فراہم کرے گا۔
دریں اثنا، وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان آئندہ چند ماہ میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس کے بعد مقامی دوا ساز کمپنیوں کو اپنی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔
مزید برآں، پاکستان کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے چینی اداروں کے ساتھ 10 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ادویات کے خام مال (اے پی آئی/ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس) کی مقامی پیداوار کی راہ ہموار ہو گی۔
ان معاہدوں کے ذریعے ویکسین کی مقامی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تعاون قائم کیا جائے گا۔
























Comments