وفاقی وزیر تجارت سے چمڑا صنعت کے وفد کی ملاقات، برآمدی رکاوٹوں ودیگر مسائل سے آگاہ کیا
- لیدر سیکٹر برآمدی صلاحیت بڑھانے اور آپریشنز کو سہل بنانے کے لیے فوری اصلاحات کا خواہاں
چمڑے کی صنعت کے نمائندوں نے جمعرات کو پیداواری لاگت میں اضافے، متعدد ٹیکسز، درآمدی مالیات کی بلند شرح اور خام مال پر ڈیوٹیز کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جو برآمدی مسابقت کو متاثر کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے چمڑا صنعت کے وفد کیساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں شعبے کی برآمدی کارکردگی، مسابقت کے چیلنجز، ٹیکس دباؤ اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صنعتی ترقی اور برآمدی صلاحیت کو تقویت دینے کے لیے اصلاحاتی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وفد نے نشاندہی کی کہ لائیو اسٹاک کے وسیع وسائل، مینوفیکچرنگ کی مہارت اور چمڑے کے ملبوسات، دستانے، جوتے، ہینڈ بیگز اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں بہترین برآمدی صلاحیت کے باوجود، یہ شعبہ تاحال متعدد ڈھانچہ جاتی چیلنجز کا شکار ہے۔
ان چیلنجز میں پیداواری لاگت میں اضافہ اور ٹیکسز کی بلند شرح شامل ہیں۔
وفد نے وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکام کی جانب سے عائد کردہ متعدد معائنوں، منظوریوں، سرٹیفیکیشنز اور ایک سے زائد ٹیکس کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے ایز آگ ڈوئنگ بزنس کو بہتر بنانے اور آپریشنل رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط اور ہم آہنگ کمپلائنس سسٹم کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے ون ونڈو میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔
مذاکرات کے دوران کاروبار کرنے کی بڑھتی لاگت ایک تشویشناک پہلو رہی۔ اسٹیک ہولڈرز نے امپورٹ فنانسنگ میں درپیش چیلنجز اور صنعتی خام مال پر ڈیوٹیز کی بلند شرح کی نشاندہی کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ برآمدی مسابقت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس شعبے کی وسعت کو محدود کررہی ہے۔
صنعتی نمائندوں نے بجٹ کے حوالے سے اپنی ابتدائی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں ٹیریف ریشنلائزیشن، خام مال پر ڈیوٹی کی ایڈجسٹمنٹ اور برآمدی مینوفیکچرنگ یونٹس کے لیے ٹیکس ریلیف کے اقدامات شامل تھے۔
پریس ریلیز کے مطابقوفد نے اس بات پر زور دیا کہ برآمد کنندگان کو وسیع تر صنعتی نظام میں سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں، جس میں خام مال تک سستی رسائی، فنانسنگ کی سہولیات، مارکیٹ تک بہتر رسائی اور ریگولیٹری نظام میں مزید بہتری شامل ہے۔
چمڑا صنعت نے پاکستان میں لائیو اسٹاک (مویشیوں) کی صلاحیت سے بہتر فائدہ اٹھانے، ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دے کر برآمدات بڑھانے کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔
اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کا اعتراف کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے نہ صرف فوری اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ٹیکسیشن، مارکیٹ تک رسائی، فنانسنگ اور صنعتی پیداواری صلاحیت جیسے شعبوں میں طویل مدتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
انہوں نے عملی اصلاحات کی حمایت اور پاکستان کے برآمدی مینوفیکچرنگ سیکٹرز کو مضبوط بنانے کے لیے صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے کے حوالے سے وزارتِ تجارت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کا اختتام اس مشترکہ سمجھ بوجھ پر ہوا کہ شعبہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور پاکستان کی لیدر انڈسٹری کی تمام تر برآمدی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان تعاون جاری رکھا جائے گا۔

























Comments