نیپرا نے ریگولیٹری فیس کی ادائیگی کیلئے ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کی اجازت دیدی
- اب صرف بینکاری آلات کے ذریعے ادائیگی کی سابقہ شرط ختم کر دی گئی ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مختلف ریگولیٹری خدمات کی فیس ڈیجیٹل ذرائع سے ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد اب صرف بینکاری آلات کے ذریعے ادائیگی کی سابقہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔
اس حوالے سے نیپرا نے تین اسٹیچوری ریگولیٹری آرڈرز (ایس آر اوز) 861، 862 اور 863 جاری کیے ہیں، جن کا مقصد سرکاری کمپنیوں، نجی شعبے کے اداروں اور افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
ایس آر او 861 اور 862 کے مطابق ڈیجیٹل ذرائع سے مراد مختلف ڈیجیٹل ادائیگی اور مالیاتی خدمات ہیں۔ ان میں آن لائن پورٹلز یا پلیٹ فارمز کے ذریعے ادائیگیاں اور وصولیاں، آن لائن انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر سروسز، آن لائن بل یا انوائس پریزنٹمنٹ اینڈ پیمنٹ سسٹمز، اوور دی کاؤنٹر ڈیجیٹل ادائیگی سہولیات، اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) ٹرمینلز، کیو آر کوڈز، موبائل ڈیوائسز، اے ٹی ایمز، کیوسکس یا دیگر ڈیجیٹل ادائیگی سے منسلک آلات کے ذریعے کارڈ بیسڈ ادائیگیاں شامل ہیں۔ اس تعریف میں دیگر تمام آن لائن یا ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ترامیم کے تحت شیڈول ون میں روپے ( ) کی رقم کا بینک ڈرافٹ/پے آرڈر کے الفاظ کی جگہ روپے ( ) کی ادائیگی کا ثبوت، جو پے آرڈر، بینک ڈرافٹ یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ادا کیا گیا ہو شامل کر دیا گیا ہے۔
ایس آر او 863 کے تحت متعلقہ ضوابط میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔ ریگولیشن 9 میں بینک ڈرافٹ کی صورت میں کے الفاظ کو تبدیل کرکے پے آرڈر، بینک ڈرافٹ یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ادا کیا گیا ہو کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، شیڈول میں فارم سی کی شق 10 میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادائیگی کا ثبوت: اپیل دائر کرنے کی فیس کی ادائیگی کا ثبوت، جو پے آرڈر، بینک ڈرافٹ یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ادا کیا گیا ہو، منسلک کرنا لازم ہوگا۔
اسی طرح فارم ڈی کی شق (xvii) میں بھی بینک ڈرافٹ کی صورت میں کے الفاظ کو تبدیل کرکے پے آرڈر، بینک ڈرافٹ یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ادا کیا گیا ہو کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام سے ادائیگی کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے کے ساتھ ساتھ کاروبار میں سہولت کو فروغ ملنے کی توقع ہے، کیونکہ اب فیس جمع کرانے کے لیے ڈیجیٹل چینلز استعمال کیے جا سکیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments