فنانس ڈویژن کی جانب سے ہر ماہ کے آخر میں جاری کی جانے والی اپریل 2026 اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک میں نوٹ کیا گیا کہ جولائی تا مارچ 2026 بڑے پیمانے کی صنعت کاری (ایل ایس ایم) کی شرح نمو 5.7 فیصد رہی (جب کہ مارچ کی شرح نمو 7.3 فیصد بتائی گئی) تاہم ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے جولائی تا مارچ کی شرح نمو 6.48 فیصد بتائی جوکہ 0.78 فیصد کا فرق ہے۔ پی بی ایس نے مزید نوٹ کیا کہ اگرچہ جولائی تا مارچ ایل ایس ایم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.48 فیصد اضافہ ہوا لیکن فروری کے مقابلے میں اس میں 5.19 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارچ اور اپریل کی آؤٹ لک اینڈ اپ ڈیٹ کے مطابق فروری کے لئے ایل ایس ایم 7 فیصد تھا جو مارچ میں بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگیا۔
اگرچہ فنانس ڈویژن وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں ہے لیکن پی بی ایس وزارتِ منصوبہ بندی کے ماتحت آتا ہے۔ تاہم بروقت اور باخبر پالیسی فیصلے لینے کو یقینی بنانے کے لیے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان ڈیٹا کی ہم آہنگی کی ضرورت پر جتنا بھی زور دیا جائے وہ کم ہے۔
یہ فرض کرتے ہوئے کہ اعدادوشمار میں ردوبدل محدود تھا، ایک ایسا مفروضہ جس کو بہت سے ماہرینِ معاشیات اور ایل ایس ایم کے شعبے سے وابستہ افراد چیلنج کرسکتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں آئی ایم ایف نے بھی کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پی بی ایس کے سرویز کے معیار پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا جو فنڈ کی جاری تکنیکی معاونت کے تحت کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں تکمیل کی تاریخ چار ماہ کے لیے مؤخر کردی گئی، اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال مارچ میں ایل ایس ایم نمو میں سب سے بڑا کردار چینی کے شعبے نے ادا کیا، جس میں 384.90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ آٹوموبائل شعبے میں 61.35 فیصد ترقی دیکھی گئی۔
تین مشاہدات غور طلب ہیں۔ اول یہ کہ زیادہ تر ممالک میں عام طور پر چینی (شوگر) کو ایل ایس ایم کے شعبے میں شامل نہیں کیا جاتا، تاہم پاکستان کے کئی نامور خاندانوں کی شوگر ملوں میں سرمایہ کاری کی وجہ سے اس مخصوص صنعت کو وقت کے ساتھ کافی مراعات دی گئی ہیں۔ دوم آج پاکستان میں گاڑیوں کے کئی پلانٹس کام کرنے کے باوجود کار سازی کے عمل کو مقامی سطح پر منتقل کرنے کی انتہائی سست رفتار پر بحث آج بھی جاری ہے۔
دوسرا یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مہنگائی میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر پٹرولیم شعبے سے متعلق اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں 3.39 فیصد اضافہ پیداوار کے بجائے قیمتوں میں اضافے کی عکاسی کرسکتا ہے۔ مزید برآں وہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر پاکستان کے بھاری انحصار کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ایک ایسا انحصار جس کا پی بی ایس کو اسے ایل ایس ایم کے طور پر پیش کرنے سے پہلے ادراک کرنا چاہیے تھا۔
اور آخر میں یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے بڑے برآمدی شعبے یعنی یارن، کلاتھ اور فارمنٹس نے بالترتیب منفی 1.14 فیصد، مثبت 0.12 فیصد اور مثبت 1.79 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی ہے، حالانکہ یہ صنعت مسلسل پیداواری لاگت میں اضافے کا رونا رو رہی ہے۔ (اس اضافے کی وجہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کی شرائط ہیں جن میں خاص طور پر سکڑتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں اور بجلی و دیگر خام مال کی بلند قیمتیں شامل ہیں)۔ صنعت کاروں کا دعویٰ ہے کہ اب تک 150 یونٹس بند ہوچکے ہیں۔
مختصر یہ کہ اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کسی کے کام نہیں آتی کیونکہ یہ پالیسی سازوں کو بروقت فیصلے کرنے سے روک کر اندھیرے میں رکھتی ہے اور اگر اس کا مقصد عوام کو اصل صورتحال کے برعکس بہتر کارکردگی دکھانا ہے تو یہ مقصد بھی کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مہنگائی اور روزگار دو ایسے اشارے ہیں جنہیں عوام فطری طور پر محسوس کرتے ہیں اور حکومت کے خوش کن اعدادوشمار کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments