امریکی امن تجویز پر ایران کا غور، ٹرمپ نے جنگ کے جلد خاتمے کی پیش گوئی کر دی
- دونوں فریق اب بھی کئی سائل پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے جلد خاتمے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ تہران امریکہ کی جانب سے پیش کردہ امن معاہدے کی تجویز پر غور کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تجویز جنگ کا باضابطہ خاتمہ تو کردے گی لیکن ایران کے جوہری پروگرام کی معطلی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اہم امریکی مطالبات اس میں بدستور غیرحل شدہ رہیں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران اپنا جواب جلد پہنچا دے گا جبکہ ایرانی رکنِ پارلیمنٹ اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کی طاقتور کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اس تجویز کو حقیقت کے بجائے امریکی خواہشات کی فہرست قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے اور یہ قوی امکان ہے کہ ہم کوئی معاہدہ کر لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ (جنگ) جلد ہی ختم ہوجائے گی۔
ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے امکان کو بارہا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، تاہم اب تک انہیں اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
دونوں فریق اب بھی کئی مشکل مسائل پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں، جیسے کہ ایران کے جوہری عزائم اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول جو جنگ سے قبل دنیا بھر کی تیل اور گیس کی سپلائی کے پانچویں حصے کی ترسیل کا راستہ تھا۔
ایک پاکستانی ذرائع اور ثالثی کے عمل سے باخبر ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مختصر دستاویزی یادداشت پر اتفاق رائے قریب ہے جو باضابطہ طور پر اس تنازع کو ختم کردے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز ثابت ہوگا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان رپورٹس کا مذاق اڑایا جن میں اشارہ دیا گیا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر انگریزی میں لکھا کہ آپریشن ٹرسٹ می برو ناکام ہو گیا۔
قالیباف نے کہا کہ ایسی رپورٹیں آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکامی کے بعد محض امریکہ کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ایک کوشش ہیں۔
امن معاہدے کی توقع: عالمی مارکیٹ میں تیل سستا، شیئرز کے نرخ بڑھ گئے
ممکنہ معاہدے کی خبروں کے باعث بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر کر دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئیں جہاں بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز ایک موقع پر تقریباً 11 فیصد کمی کے ساتھ 98 ڈالر فی بیرل تک گر گئے تاہم بعد میں قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی سطح سے اوپر آگئی۔
توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے والی اس جنگ کے خاتمے کی امیدوں پر عالمی منڈیوں میں شیئرز کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں جبکہ بانڈ ییلڈز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
جی سی آئی ایسٹ مینجمنٹ کے سینئر پورٹ فولیو منیجر تاکاماسا اکیڈا نے کہا کہ امریکہ اور ایران کی امن تجاویز کے مندرجات تو برائے نام ہیں لیکن مارکیٹ میں یہ توقع پائی جاتی ہے کہ اب مزید فوجی کارروائی نہیں ہوگی۔
ٹرمپ نے امن مذاکرات میں پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو ناکہ بندی کا شکار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دو دن قبل شروع کیا گیا بحری مشن روک دیا۔
این بی سی نیوز نے دو نامعلوم امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اچانک یوٹرن اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب نے اس آپریشن کے لیے امریکی فوج کی جانب سے سعودی بیس کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
این بی سی کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام ٹرمپ کے اس اعلان پر حیران اور برہم تھے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو بحری تحفظ (ایسکورٹ) فراہم کرے گا جس کے بعد انہوں نے واشنگٹن کو آگاہ کر دیا کہ وہ امریکہ کو سعودی بیس سے فوجی طیارے اڑانے یا سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
امریکی فوج نے خطے میں ایرانی جہازوں کی اپنی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ بدھ کو فورسز نے ایرانی پرچم والے ایک خالی ٹینکر پر فائرنگ کی جس سے وہ جہاز ناکارہ ہوگیا جو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے کی کوشش کررہا تھا۔
























Comments