BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

بھارت میں ٹیکس تنازع کے باعث اپریل میں سونے کی درآمدات 30 سال کی کم ترین سطح پر

  • بینکوں نے اس ماہ کسٹمز سے کوئی سونا کلیئر نہیں کروایا، سرکاری اہلکار
شائع اپ ڈیٹ

صنعتی اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت میں اپریل کے دوران سونے کی درآمدات تقریباً 15 میٹرک ٹن تک گرنے کا امکان ہے جو کہ تقریباً 30 سال کی کم ترین سطح ہوگی۔ اس کی وجہ بینکوں پر عائد ہونے والا ٹیکس کا وہ غیر متوقع مطالبہ ہے جس نے انہیں شدید متاثر کیا ہے۔

انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سریندر مہتا نے بتایا کہ وہ بینک، جو بھارت کا زیادہ تر ریفائنڈ سونا درآمد کرتے ہیں، انہوں نے اپنی ترسیلات اس وقت سے روک دی ہیں جب سے بھارتی کسٹمز نے اس دھات پر 3 فیصد انٹیگریٹڈ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (آئی جی ایس ٹی) کا مطالبہ شروع کیا ہے۔

سال 2017 میں جب بھارت نے آئی جی ایس ٹی نافذ کیا تھا تو سونا درآمد کرنے والے بینکوں کو اس 3 فیصد لیوی (ٹیکس) کی ادائیگی سے استثنیٰ تھا۔ رائٹرز نے رواں ماہ کے آغاز میں رپورٹ دی تھی کہ بینکوں پر اب ٹیکس کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے اس کی وجہ بینکوں کے ذریعے بلین (سونے کی اینٹوں) کی درآمد کی اجازت دینے والے سرکاری حکم نامے کے اجراء میں تاخیر ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بینکوں نے اس ماہ کسٹمز سے کوئی سونا کلیئر نہیں کروایا۔ صرف ایک قلیل مقدار انڈیا انٹرنیشنل بلین ایکسچینج کے ذریعے کلیئر کی گئی، بھارت کے ٹیکس حکام نے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ان سے بینکوں کے ذریعے سونے کی درآمد پر طلب کیے جانے والے آئی جی ایس ٹی پر تبصرہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ بھارت جو دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا صارف ہے، اس نے اپریل 2025 میں 35 ٹن سونا درآمد کیا تھا اور مارچ تک ختم ہونے والے مالی سال 26-2025 میں اس کی ماہانہ اوسط درآمد تقریباً 60 ٹن رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل کے لیے 15 ٹن کا یہ عدد تقریباً تین دہائیوں میں اس ماہ کی کم ترین سطح ہے (سال 2020 کو چھوڑ کر جب کووڈ-19 کی وبا نے بھارتی جیولری کی دکانوں کو بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا)۔ درآمدات میں یہ کمی عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

بینکوں کے بلین ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپریل میں سونے کی درآمد پر غالباً 1.3 ارب ڈالر خرچ کیے جو کہ گزشتہ مالی سال کے 6 ارب ڈالر کے ماہانہ اوسط سے کہیں کم ہے۔ یہ کمی اس کے باوجود دیکھی گئی کہ 19 اپریل کو بھارتی شہریوں نے اکشے ترتیا منایا جو دھنتیرس کے بعد سونا خریدنے کا دوسرا بڑا تہوار ہے۔“

ممبئی میں مقیم ایک نجی بینک کے بلین ڈیلر نے بتایا کہ سپلائی کرنے والے بینکوں نے اکشے ترتیا کے تہوار پر طلب کی توقع میں سونا بھارت منگوایا تھا لیکن اب یہ والٹس میں پڑا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 8 ٹن سونا ان والٹس میں رکھا ہوا ہے۔

ڈیلر نے رائٹرز کو بتایا کہ بینک یہ ترسیلات صرف اسی صورت میں کلیئر کریں گے جب کسٹمز حکام جی ایس ٹی کے مطالبے کے بغیر سونا لے جانے کی اجازت دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سونے پر جی ایس ٹی کا مطالبہ اور اس سے قبل بینکوں کو بلین درآمد کرنے کی اجازت دینے میں تاخیر کا مقصد سونے کی درآمدات کو سست کرنا ہو سکتا ہے تاکہ ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے اور روپے کو سہارا دینے میں مدد مل سکے جو کہ اس سال اب تک ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں سے ایک رہی ہے۔

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بلین مرچنٹ کیپس گولڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر چندا وینکٹیش نے کہا کہ بینکوں کی جانب سے درآمدات روکنے کے بعد جیولرز نے آئی آئی بی ایکس سے درآمد شدہ سونا حاصل کرنا شروع کر دیا تھا، اگرچہ اس کی مقدار بہت کم تھی۔

Comments

200 حروف