پاکستان اور یورپی یونین بینک کا سندھ میں سیلاب زدہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے 100 ملین یورو معاہدہ
- اس منصوبے کا مقصد دیہی سندھ میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مدد کرنا ہے
وزارت اقتصادی امور کے بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان اور یورپی انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی) نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ہاؤسنگ ریکنسٹرکشن پروجیکٹ کے لیے 100 ملین یورو کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یہ منصوبہ دیہی سندھ میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مدد فراہم کرے گا۔
معاہدے پر دستخط محمد حمیر کریم کڈوائی، وفاقی سیکرٹری وزارت اقتصادی امور، اور ای آئی بی کے ایک سینئر اہلکار نے یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم کے دوران کیے۔ دستخط کے موقع پر یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر رائمونڈاس کیروبلس بھی موجود تھے۔
سندھ میں 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے جاری منصوبے کا ہدف صوبے میں 1.7 ملین گھروں کی دوبارہ تعمیر ہے۔ یورپی انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی) کی جانب سے فراہم کیے جانے والے 100 ملین یورو سے 116,580 ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کی جائے گی، جس سے صوبے کے دیہی علاقوں کے تقریباً 40 فیصد خاندان مستفید ہوں گے۔
اس منصوبے کی کل لاگت تقریباً 1.9 بلین یورو تخمینہ ہے، جس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور حکومت سندھ سے اضافی فنڈنگ شامل ہے۔
یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان مستقبل کے موسمیاتی آفات کے خلاف اپنی لچک مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
منصوبہ پاکستان کی طویل مدتی بحالی کے عالمی اقدامات کا حصہ ہے، تاکہ کمیونٹیز کو موسمی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے بہتر تیار کیا جا سکے۔
یہ اقدام نہ صرف گھروں کی تعمیر نو بلکہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر بھی زور دیتا ہے، جو پاکستان کی پائیدار بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
بین الاقوامی معاونت کے ساتھ، یہ منصوبہ ضروری رہائش فراہم کرنے، کمیونٹیز کو مضبوط کرنے اور سندھ میں طویل مدتی موسمی لچک کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
























Comments