واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے جاری موسمِ بہار کے اجلاسوں کے موقع پر بارورز پلیٹ فارم نامی اقدام کے ایک ورکنگ گروپ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام فی الوقت اپنے عبوری مرحلے میں ہے جسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے خزاں کے اجلاس (اکتوبر) کے دوران مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد قرض لینے والے ممالک کے درمیان قرضوں کی پائیداری، شفافیت اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے عمل کو مضبوط بنانا ہے۔
یونائیٹڈ نیشن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ اس اقدام کے سیکرٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دے گی، اس ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر درج ذیل معلومات اپ لوڈ کی ہیں:جہاں ایک طرف قرض دینے والے ممالک کے درمیان ہم آہنگی کا طریقہ کار طویل عرصے سے قائم ہے، وہیں قرض لینے والے ممالک کے پاس تجربات کے تبادلے، معلومات کی فراہمی اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کسی مخصوص پلیٹ فارم کی کمی رہی ہے۔ یہ پلیٹ فارم قرضوں کی فراہمی کے زیادہ پائیدار نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور وقت کے ساتھ قرضوں کی پائیداری کو بہتر بنا کر اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال کو کم کر کے مارکیٹوں کو ایک مثبت پیغام بھیجے گا جس سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ قرضوں کا بڑھتا بوجھ ترقی کے امکانات کو پٹڑی سے نہ اتار دے۔
مصر اس پلیٹ فارم کا چیئرمین اور پاکستان وائس چیئرمین ہوگا۔ بہت سے ماہرین چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب کو خاص طور پر موزوں قرار دے رہے ہیں: مصر (اسرائیل کے بعد) سالانہ بنیادوں پر امریکی فوجی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو 1.3 ارب ڈالر وصول کرتا ہے اور 2010 سے اب تک اس کی معیشت میں 30 ارب ڈالر سے زائد انجیکٹ (شامل) کیے جاچکے ہیں۔ اس کے باوجود مصر اس وقت آئی ایم ایف کے اپنے 15 ویں ای ایف ایف پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کے ایک سابقہ پروگرام لون کی نگرانی رضا باقر نے کی تھی (جو اس وقت مصر میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ تھے) اور جنہیں بعد ازاں 2013 میں اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے چوبیسویں ای ایف ایف پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ وقت کے ساتھ پاکستان اپنے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے تین دوست ممالک کی جانب سے قرضوں کی واپسی میں توسیع پر تیزی سے انحصار کررہا ہے۔ تاہم اب یہ تعداد دو رہ گئی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات نے 3.45 ارب ڈالر کا قرض واپس طلب کر لیا ہے جبکہ سعودی عرب نے مزید 3 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
یونائیٹڈ نیشن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، 2024 میں مجموعی بیرونی قرضہ 11.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ ان قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی کے اخراجات میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ یہ حکومتی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد بن چکے ہیں۔ اس وقت 54 ممالک ایسے ہیں جو صحت یا تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔
ویب سائٹ پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم بحرانوں میں ہم آہنگی کا کوئی طریقہ کار ہے نہ ہی قرضوں کی اجتماعی ری اسٹرکچرنگ کے مذاکرات کا کوئی فورم اور نہ ہی اجتماعی سودے بازی کے لیے معیار مقرر کرنے والا کوئی ادارہ ہے۔ بلکہ یہ قرض لینے والے ممالک کے لیے ایک ایسا فورم ہے جہاں وہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکیں، معلومات کا تبادلہ کر سکیں اور اجتماعی وکالت کو آگے بڑھا سکیں، البتہ یہ سب رضاکارانہ اور غیر پابند بنیادوں پر ہوگا۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بارورز پلیٹ فارم کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ قرض دینے کے موجودہ طریقہ کار زیادہ تر قرض دہندگان کی مرضی کے تابع ہیں اور قرض لینے والوں کی منفرد ضروریات کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئیے مل کر قرض لینے والوں کی آواز کو توانا بنائیں، دیگر اہل ممالک کو اسٹیرنگ کمیٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مہارت شیئر کرنے کی دعوت دیں اور ایک پائیدار مستقبل کے لیے مضبوط بنیادیں استوار کریں۔ یہ بیان اس پلیٹ فارم کے بنیادی مقصد کو سمجھنے میں ناکام نظر آتا ہے جس کا مقصد ایسی پالیسیاں وضع کرنا اور نافذ کرنا ہے جو قرض لینے والے ملک کو قرضوں کے جال سے نکال سکیں اور مزید قرضوں کی ضرورت کو کم کریں۔ یہ قرض کا جال دراصل ان ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن میں جاری اخراجات کو کم نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے بیرونی قرضوں کی ضرورت پڑتی ہے یا پھر آئی ایم ایف کی ان انتہائی سخت مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کو نافذ کرنا پڑتا ہے جو مصر اور پاکستان دونوں پر عائد کی گئی ہیں۔ ان پالیسیوں کے شرحِ نمو پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں جس نے بدلے میں غربت کو مزید ہوا دی ہے۔
اختتاماً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس فورم کا مقصد ان ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو قدرتی آفات (آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی اسی زمرے میں آتی ہے) یا جنگوں سے وابستہ انسانی ساختہ آفات یا دوسرے الفاظ میں بیرونی عوامل کا شکار ہیں، جہاں تک داخلی پالیسیوں کی خامیوں کا تعلق ہے تو انہیں کسی کثیر الجہتی ادارے کی طے شدہ شرائط پر بھروسہ کرنے کے بجائے سیاسی قیادت کو خود حل کرنا چاہیے کیونکہ ایسی شرائط اب تک مقروض ممالک میں نہ تو قرضوں کے بوجھ کو کم کرسکی ہیں اور نہ ہی غربت کا خاتمہ کرسکی ہیں۔

























Comments