آبنائے ہرمز کی بندش، پاکستان کے تین ایل این جی کارگو خلیج فارس میں پھنس گئے
- پاکستان کو گزشتہ ایک ماہ سے ایل این جی کی کوئی ترسیل موصول نہیں ہوئی
بلومبرگ کے جہازوں سے متعلق ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق کم از کم تین مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کارگو جہاز اس وقت خلیج فارس میں پاکستان کے لیے رکے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو گزشتہ ایک ماہ سے ایل این جی کی کوئی ترسیل موصول نہیں ہوئی، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ اس صورتحال کے باعث درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جب تک ایل این جی کی سپلائی بحال نہیں ہوتی، بجلی کی طلب کے اوقات میں لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔ ان کے مطابق اس وقت قطر کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باعث ایل این جی دستیاب نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کو تقریباً 3,400 میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ ہائیڈرو پاور پیداوار میں کمی ہے، کیونکہ بارشوں اور آبپاشی کی کم طلب کے باعث ڈیموں سے پانی کا اخراج محدود ہو گیا ہے۔
وزیر توانائی نے مزید کہا کہ ایل این جی پر مبنی بجلی پیداوار میں شدید کمی آئی ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں 6 سے 7 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے ایل این جی پاور پلانٹس جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 6,000 میگاواٹ ہے، اس وقت صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ ہائیڈرو پاور پیداوار تقریباً 1,600 میگاواٹ رہ گئی ہے، جو گزشتہ سال اپریل کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔
عالمی سطح پر صورتحال اس وقت مزید غیر یقینی ہو گئی ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی، جو منگل تک جاری رہنی تھی، خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطی اور ایران کی جوابی دھمکیوں نے کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
ایران نے امریکہ کے ساتھ نئے امن مذاکرات بھی مسترد کر دیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے پاکستان بھیج رہے ہیں اور اگر ایران نے شرائط نہ مانیں تو نئی کارروائیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔

























Comments