حکومت کا ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی کم کرنے پر غور
- ڈیری بریڈز کے جینیاتی معیار کو بہتر بنانا اور کسانوں کو باقاعدہ کاروباری ماڈل کی طرف راغب کرنا شعبے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے، جام کمال
وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے حکام کو ڈیری مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 18 سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کی تجویز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو پاکستان کے ڈیری سیکٹر کو اہم ٹیکس ریلیف اور مدد فراہم کر سکتا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیرتجارت نے پیر کو پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کے ایک وفد کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی جس کی قیادت سی ای او ڈاکٹر شہزاد امین کررہے تھے، اجلاس میں وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل اور وزارتِ تجارت کے اعلیٰ حکام نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
اس گفتگو کا محور پاکستان کے ڈیری سیکٹر کو درپیش چیلنجز تھے، بالخصوص ٹیرف اور ٹیکسیشن کے مسائل، نیز پیداواری صلاحیت میں بہتری، جینیاتی معیار (نسل کشی) میں اضافہ اور اس شعبے کوفارملائز کرنے جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔
جام کمال نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیری بریڈز کے جینیاتی معیار کو بہتر بنانا اور کسانوں کو ایک باقاعدہ کاروباری ماڈل کی طرف راغب کرنا شعبے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ درست جینیاتی رہنمائی کے بغیر کسان دودھ کی مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کرسکتے اور اس شعبے کی کایا پلٹنے کیلئے منظم تعاون، ریگولیشن اور کسانوں کی تعلیم و تربیت ناگزیر ہے۔
ایسوسی ایشن نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ڈیری مصنوعات پر موجودہ جی ایس ٹی 18 فیصد ہے جبکہ عالمی سطح پر اور یہاں تک کہ پڑوسی ممالک میں بھی ایسی مصنوعات پر اکثر یا تو ٹیکس سرے سے ہے ہی نہیں یا پھر بہت کم ہے۔
اس کے جواب میں جام کمال نے ایسوسی ایشن سے جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کی تجاویز طلب کیں اور رانا احسان افضل کو ہدایت کی کہ وہ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ایک جامع تجویز تیار کرنے کے لیے اس کام کی قیادت سنبھالیں۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ وہ ان تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور ملک بھر میں ڈیری سیکٹر کو منظم کرنے کے لیے تعاون حاصل کرنے کی خاطر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور تمام متعلقہ وزراء کو خطوط لکھیں گے۔
ایسوسی ایشن نے مزید تجاویز بھی پیش کیں جن میں کسانوں کو مالی امداد اور بینکنگ کی سہولیات فراہم کرنا، ریگولیٹری اقدامات کے ذریعے صرف پاسچرائزڈ (جراثیم سے پاک) یا مناسب پیکنگ والے دودھ کی فروخت کو یقینی بنانا اور بڑے شہری مراکز میں پائلٹ پروگرام شروع کرنا شامل ہیں تاکہ کسانوں کو باقاعدہ کاروباری طریقوں کی طرف منتقل کیا جاسکے۔
ایسوسی ایشن نے جینیاتی معیار کی بہتری اور دودھ کی مجموعی پیداوار بڑھانے کے لیے کراس بریڈنگ پروگرامز اور کسانوں کی تربیت کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
جام کمال نے ان تجاویز کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بروقت عمل درآمد کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ پاکستان کا ڈیری سیکٹر زیادہ پیداواری صلاحیت اور بہتر ریگولیٹری تعمیل حاصل کرسکے اور ملکی معیشت میں مزید مؤثر طریقے سے اپنا حصہ ڈال سکے۔

























Comments