پاکستان نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ کوریڈور کا باقاعدہ آغاز کر دیا، پہلی برآمدی کھیپ روانہ
- افتتاحی کھیپ میں منجمد گوشت شامل تھا جو کراچی سے روانہ ہوئی
پاکستان نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر پاکستان ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا آغاز کر دیا ہے، جو علاقائی تجارتی رابطوں کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر کراچی سے پہلی برآمدی کھیپ تاشقند کے لیے روانہ کی گئی۔
افتتاحی کھیپ میں منجمد گوشت شامل تھا جو کراچی سے روانہ ہوئی۔ یہ نیا روٹ برآمد کنندگان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے ایک زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد زمینی راستہ فراہم کرنے کی توقع رکھتا ہے۔
اس موقع پر کراچی میں ایک افتتاحی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں کسٹمز حکام اور لاجسٹکس کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اس اقدام کو پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
نئے انتظام کے تحت سامان کو ایران کے راستے ٹی آئی آر ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا، جس سے سرحدی رکاوٹیں کم ہوں گی اور ترسیل کے عمل میں تاخیر میں نمایاں کمی آئے گی۔
حکام کے مطابق یہ کوریڈور برآمد کنندگان کے لیے تیز اور کم لاگت متبادل راستہ ثابت ہوگا، جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس روٹ سے ٹرانزٹ وقت میں نمایاں کمی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے علاقائی منڈیوں تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
حکام کو امید ہے کہ یہ کوریڈور پاکستانی برآمدات کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا اور خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ دے گا۔
پہلی کھیپ کی کامیاب روانگی کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی تجارتی نیٹ ورک کو وسعت دینے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

























Comments