امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جس میں پاکستان نے مبینہ طور پر سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی کی علامت ہے بلکہ اسلام آباد کے لیے ایک نادر سفارتی موقع بھی پیش کرتی ہے
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سفارتی پیش رفت کو محض علامتی کامیابی کے طور پر دیکھے گا یا اسے ٹھوس معاشی، تزویراتی اور علاقائی فوائد میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا
اگر پالیسی میں ہم آہنگی، عملی مہارت اور حکمت عملی پر مرکوز توجہ یکجا ہو جائیں، تو کراچی کی رن ویز اور بندرگاہیں دوبارہ علاقائی اور بین البراعظمی نقل و حمل کی شریانیں بن سکتی ہیں
پاکستان کا پہلا گرین شپ ریپئر اور ری سائیکلنگ یارڈ سی ٹو اسٹیل انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس کے تحت پورٹ قاسم پر قائم کیا جائے گا، وزیر بحری امور