BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.76 (1.34%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.95 Increased By ▲ 0.27 (0.8%)
CNERGY 10.63 Increased By ▲ 0.82 (8.36%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 209.50 Increased By ▲ 1.63 (0.78%)
FABL 99.50 Increased By ▲ 0.60 (0.61%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.23 (0.43%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.18 (-1.08%)
GGL 23.84 Increased By ▲ 0.27 (1.15%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -2.23 (-0.73%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 1.14 (0.52%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.14 (-1.31%)
KEL 7.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.68%)
LOTCHEM 29.87 Increased By ▲ 0.76 (2.61%)
MLCF 96.30 Increased By ▲ 0.80 (0.84%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.01 Increased By ▲ 17.00 (6.07%)
PPL 220.44 Increased By ▲ 0.70 (0.32%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.26 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.13 (1.48%)
TPLP 12.56 Increased By ▲ 0.46 (3.8%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.23 (0.38%)
UNITY 10.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.3%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

سعودی وزیر خزانہ کا دورہ پاکستان، اقتصادی تعاون کی یقین دہانی

  • یہ دورہ یو اے ای کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرنے کے اعلان کے چند روز بعد ہوا
شائع اپ ڈیٹ

معاملے سے باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان ہفتے کو اقتصادی تعاون کے اظہار کیلئے اسلام آباد میں موجود تھے۔ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے ریاض کے اتحادی اور اب حریف متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرنے کے اعلان کے چند روز بعد ہوا۔

سعودی وزیر محمد الجدعان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے پاک-ایران مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے تاہم وہ ان مذاکرات میں شریک نہیں ہیں۔

ان کا یہ دورہ خطے کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں خلیج میں ابھرتے ہوئے نئے اتحادوں کی تازہ ترین علامت ہے۔

معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ وہ وہاں پاکستان کے لیے اقتصادی تعاون کے اظہار کے طور پر موجود ہیں۔

شدید مالی مشکلات کا شکار پاکستان نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے واپس کرے گا، جنہیں ابوظہبی 2018 سے رول اوور (موخر) کرتا آ رہا تھا۔

اسلام آباد اپنے بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کے قرضوں پر انحصار کرتا ہے، جو اس کی سالانہ آمدنی کا نصف حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کبھی قریبی شراکت دار تھے لیکن حالیہ برسوں میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب دونوں پڑوسی ممالک یمن، سوڈان اور ہارن آف افریقہ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ہمراہ ایران پر امریکہ-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کو تہران کے جوابی حملوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ایرانی حملوں کا سامنا کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ایران کے حوالے سے بھی زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ایسے حل سے خبردار کیا ہے جو اس کے بقول ایران کے تمام خطرات کا مکمل احاطہ نہ کریں اور بحری راستوں کی آزادی (فریڈم آف نیویگیشن) کو یقینی نہ بنائیں۔

اگرچہ ابوظہبی نے سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ، تاہم کچھ اماراتی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پوسٹس میں ثالثی کے اس عمل میں مصر اور پاکستان کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Comments

200 حروف