BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.39%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.98 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
FCCL 53.39 Increased By ▲ 0.56 (1.06%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.62 Increased By ▲ 0.65 (3.43%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.20 Increased By ▲ 0.82 (0.38%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.57 Decreased By ▼ -0.32 (-1.15%)
MLCF 87.15 Increased By ▲ 0.64 (0.74%)
OGDC 322.98 Increased By ▲ 3.02 (0.94%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.37 Increased By ▲ 0.70 (4.2%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.10 Increased By ▲ 0.92 (0.4%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.96 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.30 (3.62%)
TPLP 8.60 Increased By ▲ 0.38 (4.62%)
TRG 69.75 Increased By ▲ 0.04 (0.06%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

سعودی وزیر خزانہ کا دورہ پاکستان، اقتصادی تعاون کی یقین دہانی

  • یہ دورہ یو اے ای کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرنے کے اعلان کے چند روز بعد ہوا
شائع April 11, 2026 اپ ڈیٹ April 11, 2026 02:54pm

معاملے سے باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان ہفتے کو اقتصادی تعاون کے اظہار کیلئے اسلام آباد میں موجود تھے۔ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے ریاض کے اتحادی اور اب حریف متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرنے کے اعلان کے چند روز بعد ہوا۔

سعودی وزیر محمد الجدعان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے پاک-ایران مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے تاہم وہ ان مذاکرات میں شریک نہیں ہیں۔

ان کا یہ دورہ خطے کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں خلیج میں ابھرتے ہوئے نئے اتحادوں کی تازہ ترین علامت ہے۔

معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ وہ وہاں پاکستان کے لیے اقتصادی تعاون کے اظہار کے طور پر موجود ہیں۔

شدید مالی مشکلات کا شکار پاکستان نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے واپس کرے گا، جنہیں ابوظہبی 2018 سے رول اوور (موخر) کرتا آ رہا تھا۔

اسلام آباد اپنے بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کے قرضوں پر انحصار کرتا ہے، جو اس کی سالانہ آمدنی کا نصف حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کبھی قریبی شراکت دار تھے لیکن حالیہ برسوں میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب دونوں پڑوسی ممالک یمن، سوڈان اور ہارن آف افریقہ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ہمراہ ایران پر امریکہ-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کو تہران کے جوابی حملوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ایرانی حملوں کا سامنا کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ایران کے حوالے سے بھی زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ایسے حل سے خبردار کیا ہے جو اس کے بقول ایران کے تمام خطرات کا مکمل احاطہ نہ کریں اور بحری راستوں کی آزادی (فریڈم آف نیویگیشن) کو یقینی نہ بنائیں۔

اگرچہ ابوظہبی نے سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ، تاہم کچھ اماراتی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پوسٹس میں ثالثی کے اس عمل میں مصر اور پاکستان کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Comments

200 حروف