اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو سیاسی تباہی قرار دے کر مسترد کردیا
- نیتن یاہو سیاسی اور اسٹریٹجک محاذ پر بری طرح ناکام رہے، یائر لیپڈ کی شدید تنقید
اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کی سیاسی تباہی قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں یائر لیپڈ نے کہا کہ اسرائیل کی تاریخ میں کبھی ایسی سیاسی ناکامی نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جب ہماری قومی سلامتی سے متعلق اہم ترین فیصلے کیے جا رہے تھے تو اسرائیل میز پر موجود تک نہیں تھا۔ لیپڈ کے مطابق فوج نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور عوام نے استقامت دکھائی، لیکن نیتن یاہو سیاسی اور اسٹریٹجک محاذ پر بری طرح ناکام رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے جنگ کے آغاز پر ایران کے ایٹمی پروگرام کی تباہی، میزائل صلاحیتوں کے خاتمے اور تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کرنے جیسے بلند بانگ اہداف مقرر کیے تھے۔ یائر لیپڈ کا مزید کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی غفلت اور منصوبہ بندی کی کمی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے میں برسوں لگیں گے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ایران کی مکمل تباہی کی دھمکی کو ٹالنا ہے۔ اسرائیل نے حملوں کی معطلی کی حمایت تو کی ہے، تاہم واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوگی۔

























Comments