مہنگائی کے اثرات کم کرنے کی کوشش، وزیر اعظم کے ٹرانسپورٹرز کے لیے ڈیجیٹل سبسڈی پروگرام کا آغاز
- میٹنگ کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کے پاس قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز ٹرانسپورٹ سیکٹر کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل سبسڈی پروگرام کا باضابطہ آغاز کردیا، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سہولت فراہم کرنا ہے۔
اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے تصدیق کی کہ ریلیف کے فنڈز اب براہِ راست ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے عوامی نقل و حمل اور سامان لے جانے والی گاڑیوں کے مالکان کو دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شفاف نظام بسوں، ویگنز اور ٹرکوں کو بھی شامل کرتا ہے تاکہ سپلائی چین اور عوامی نقل و حمل عام آدمی کے لیے قابلِ برداشت رہے۔
وزیراعظم نے کہا: ”معاشی طور پر کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہم اپنے عوام کو ان مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارے قومی کفایت شعاری اور سادگی کے اقدامات سے ہر بچائی گئی رقم عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی جائے گی۔“
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو حالیہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد ریلیف اقدامات کے نفاذ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اہلکاروں نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کے پاس قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں، باوجود اس کے کہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے خصوصی معاون طلحہ برکی اور دیگر اعلیٰ اہلکار بھی موجود تھے۔
یہ اجلاس اس اعلان کے ایک دن بعد ہوا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ماہ کے لیے پیٹرول پر پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 80 روپے کی کمی کا فیصلہ کیا تھا، جو کہ ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد صارفین پر دباؤ کم کرنے کی کوشش تھی۔
قوم سے ٹیلی ویژن خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ اس کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 378 روپے ہو جائے گی، مؤثر از 12 بجے شب (ہفتہ) جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 520 روپے پر برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے، جس سے ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔
























Comments