BR100 Increased By (0.75%)
BR30 Increased By (0.97%)
KSE100 Increased By (0.44%)
KSE30 Increased By (0.44%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.41 Increased By ▲ 0.21 (0.83%)
BOP 34.33 Increased By ▲ 0.34 (1%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.34 Increased By ▲ 2.37 (1.23%)
FABL 89.93 Increased By ▲ 0.14 (0.16%)
FCCL 53.40 Increased By ▲ 0.57 (1.08%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.38 Increased By ▲ 0.41 (2.16%)
HBL 287.44 Increased By ▲ 1.94 (0.68%)
HUBC 215.24 Increased By ▲ 0.86 (0.4%)
HUMNL 10.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.80 Decreased By ▼ -0.09 (-0.32%)
MLCF 87.30 Increased By ▲ 0.79 (0.91%)
OGDC 322.00 Increased By ▲ 2.04 (0.64%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 16.98 Increased By ▲ 0.31 (1.86%)
PIOC 270.01 Increased By ▲ 3.95 (1.48%)
PPL 229.36 Increased By ▲ 1.18 (0.52%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.32 Increased By ▲ 0.14 (0.14%)
SSGC 26.86 Increased By ▲ 0.26 (0.98%)
TELE 8.64 Increased By ▲ 0.36 (4.35%)
TPLP 8.63 Increased By ▲ 0.41 (4.99%)
TRG 69.79 Increased By ▲ 0.08 (0.11%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
مارکٹس

قیمتوں کے تعین میں گٹھ جوڑ، سی سی پی کا کیبل بنانے والی دو کمپنیوں پر 26 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ

  • نیو ایج کیبلز پرائیویٹ لمیٹڈ پر 7 کروڑ 50 لاکھ اور جی ایم کیبلز اینڈ پائپس پرائیویٹ لمیٹڈ پر 19 کروڑ 22 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، ریگولیٹر
شائع March 31, 2026 اپ ڈیٹ March 31, 2026 06:51pm

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے قیمتوں کے تعین میں گٹھ جوڑ (ری سیل پرائس مینٹیننس) اور کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی پر کیبل بنانے والی دو کمپنیوں پر مجموعی طور پر 26 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

منگل کو جاری اعلامیے میں ریگولیٹر نے بتایا کہ نیو ایج کیبلز پرائیویٹ لمیٹڈ پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے اور جی ایم کیبلز اینڈ پائپس پرائیویٹ لمیٹڈ پر 19 کروڑ 22 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈیلرز کو مقررہ حد سے زائد ڈسکاؤنٹ دینے سے روک رکھا تھا۔

سی سی پی نے دستاویزی شواہد اور کمپنیوں کے جاری کردہ پالیسی سرکلرز کی بنیاد پر انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ ان دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ ڈیلرز کو ایک خاص حد سے کم قیمت پر مال بیچنے سے منع کیا گیا تھا اور حکم عدولی کی صورت میں ڈیلرشپ ختم کرنے جیسی تادیبی کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد کمیشن نے ایکٹ کے سیکشن 37(1) کے تحت باقاعدہ انکوائری کی اجازت دی، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ دونوں کمپنیوں نے ری سیل پرائس کی پابندیاں عائد کر کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کی ہے۔ تحقیقات کے مطابق نیو ایج کیبلز نے ڈیلرشپ معاہدوں کے ذریعے جبکہ جی ایم کیبلز نے ریٹ کنٹرول نوٹسز اور دیگر ذرائع سے ان پابندیوں پر عملدرآمد کروایا۔

انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ سماعت اور شواہد کے تفصیلی جائزے کے بعد کمیشن نے قرار دیا کہ ان اقدامات سے ایک ہی برانڈ کے ڈیلرز کے درمیان قیمتوں کا مقابلہ ختم ہوا اور صارفین کے انتخاب کے حق پر منفی اثر پڑا۔ یہ پابندیاں سرکلرز کے ذریعے باقاعدہ شکل میں نافذ کی گئی تھیں اور معطلی یا خاتمے کی دھمکیوں کے ذریعے ان پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تھا۔

جرمانے کے تعین کے دوران کمیشن نے نوٹ کیا کہ نیو ایج کیبلز نے کارروائی کے دوران تعاون کا مظاہرہ کیا، جبکہ اس کے برعکس جی ایم کیبلز نے انکوائری شروع ہونے کے باوجود اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور دستاویزی شواہد کو جھٹلانے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر جی ایم کیبلز پر مالی سال 25-2024 کے سالانہ ٹرن اوور کا 5 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا جو 19 کروڑ 22 لاکھ روپے بنتا ہے۔

سی سی پی نے دونوں کمپنیوں کو 60 دن کے اندر جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں روزانہ 5 لاکھ روپے اضافی جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ کمپنیوں کو فوری طور پر قیمتوں کے تعین کی غیر قانونی مشقیں بند کرنے، ڈیلرز کو جاری کردہ پابندیوں پر مبنی ہدایات واپس لینے اور آزادانہ قیمتیں مقرر کرنے کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نیو ایج کیبلز کو اپنے ڈیلرشپ معاہدوں سے ڈسکاؤنٹ کی حد سے متعلق شقیں ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیشن کا یہ فیصلہ مارکیٹ میں منصفانہ مقابلے کو فروغ دینے اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

Comments

200 حروف