کھاد کی قیمتیں اور اسٹاک مستحکم
- عالمی سطح پر ڈی اے پی کی قیمتیں تقریباً 14 فیصد اضافے کے ساتھ 725 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 825 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئیں
بزنس ریکارڈر کو حکام اور صنعتی ذرائع نے بتایا کہ مقامی پیداوار میں بہتری اور چاول جیسی بڑی فصلوں کا سیزن نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں ڈی اے پی اور یوریا سمیت کھادوں کی قیمتیں اور اسٹاک مستحکم ہیں۔
عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ڈی اے پی کی قیمتیں تقریباً 14 فیصد اضافے کے ساتھ 725 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 825 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہیں، تاہم خاطر خواہ ذخائر اور مسلسل مقامی پیداوار کی بدولت پاکستان بڑے پیمانے پر ان اثرات سے محفوظ ہے، جہاں فوجی فرٹیلائزر ماہانہ تقریباً 75,000 ٹن ڈی اے پی تیار کررہی ہے۔
سعودی عرب سے ڈی اے پی کی درآمدات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، صنعتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ (مشرقِ وسطیٰ میں) جاری تنازع کے باعث مملکت سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، ڈی اے پی کی درآمدات دیگر متبادل ذرائع سے جاری ہیں۔
صمد خان نے کہا کہ ملک میں ڈی اے پی اور یوریا دونوں کے وافر ذخائر موجود ہیں اور میں آنے والے دنوں میں کسی قسم کی قلت نہیں دیکھ رہا۔ پاکستان کی سالانہ تقریباً 14 لاکھ ٹن ڈی اے پی کی مجموعی ضرورت کا لگ بھگ 20 فیصد حصہ سعودی عرب سے آتا ہے۔
موجودہ ذخائر جون جولائی تک کے لیے کافی ہیں، جب چاول کی کاشت عروج پر ہوتی ہے۔
پاکستان میں ڈی اے پی کی مقامی پیداوار سالانہ تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار ٹن ہے، اور ایف ایف سی پی کیو ملک میں ڈی اے پی تیار کرنے والی واحد تنصیب ہے۔ یہ حقیقت درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اس پلانٹ کو گیس کی بلا تعطل فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ پاکستان کی ڈی اے پی کی کل سالانہ ضرورت 13 لاکھ سے 23 لاکھ ٹن کے درمیان ہے جس کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی تنازعات پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
قطری گیس کی برآمدات میں تعطل جو امونیا کی تیاری کے لیے ایک بنیادی جزو ہے نے خلیجی خطے میں کھاد کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی سطح پر یوریا کی کل برآمدات کا تقریباً 30 فیصد حصہ خلیجی ممالک فراہم کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہاں پیداوار میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے فوری عالمی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں یوریا کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 740 سے 750 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہیں، جو حالیہ برسوں میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی سطح ہے۔ اس صورتحال کو آبنائے ہرمز کی بندش نے مزید سنگین بنا دیا ہے جو جنوبی ایشیا کو کھاد کی فراہمی کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ بحری نقل و حمل میں تعطل کی وجہ سے درآمدات پر منحصر ممالک کیلئے ترسیل میں تاخیر ہورہی ہے جس سے عالمی سطح پر دستیابی میں کمی آگئی ہے۔
موجودہ حالات میں درآمد شدہ یوریا کی پاکستان پہنچنے تک کی قیمت کا تخمینہ 13,700 سے 14,700 روپے فی بوری لگایا گیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مقامی سطح پر قیمت تقریباً 4,400 روپے فی بوری ہے۔
شعبے کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مقامی پیداوار کا تسلسل برقرار نہ ہوتا تو پاکستانی کسان عالمی سطح پر موجود انتہائی مہنگی قیمتوں پر کھاد خریدنے پر مجبور ہوجاتے، اس لحاظ سے مقامی پیداوار ایک کریٹیکل بفل کا کام کررہی ہے جو مقامی مارکیٹ کو عالمی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے دوررس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ بلند قیمتوں کے باعث عام طور پر کسان کھاد کا استعمال کم کردیتے ہیں جس سے فصلوں کی پیداوار میں کمی آتی ہے اور بالآخر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جو ملک میں مجموعی مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments