پاکستان کے ساتھ بات چیت میں نمایاں پیشرفت ہوئی، آئی ایم ایف
- ای ایف ایف کے تحت پروگرام پر عمل درآمد حکام کے وعدوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر ہم آہنگ رہا ہے، سربراہ آئی ایم ایف مشن
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ملک کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تیسرے جائزے پر بات چیت میں نمایاں پیشرفت کی ہے، آئی ایم ایف کی مشن چیف ایوا پیٹرووا نے بدھ کے روز بتایا کہ حالیہ عالمی حالات کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا مزید جائزہ لینے کے لیے بات چیت آئندہ دنوں میں جاری رہے گی۔
بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام نے 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ ارینجمنٹ کے تیسرے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر تبادلہ خیال کیا۔
ایوا پیٹرووا نے کہا کہ بات چیت میں قابل ذکر پیشرفت ہوئی، تاہم یہ آئندہ دنوں میں جاری رہے گی تاکہ پاکستان کی معیشت اور ای ایف ایف کے تحت چلنے والے پروگرام پر حالیہ عالمی تبدیلیوں کے اثرات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فروری 2026 کے آخر تک ای ایف ایف کے تحت پروگرام کا نفاذ وسیع پیمانے پر حکام کے وعدوں کے مطابق رہا، اور پالیسیوں پر بات چیت میں بھی قابل ذکر پیشرفت ہوئی۔
ان پالیسیوں میں عوامی مالیات کو مضبوط کرنے کے لیے مالی استحکام برقرار رکھنا، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہدف کے دائرے میں رکھنے کے لیے مناسب سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنا، اور توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکام نے معاشی نمو کی رفتار بڑھانے، سماجی تحفظ کو مضبوط کرنے اور صحت و تعلیم پر خرچ کو دوبارہ بڑھانے کے لیے ساختی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی، اور یہ بات چیت جاری ہے۔
آئی ایم ایف کی ٹیم 26 فروری کو پاکستان پہنچی اور 2 مارچ سے بات چیت شروع کی۔ تاہم، 4 مارچ کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث وفد نے 3 مارچ کو اسلام آباد چھوڑ دیا اور استنبول میں موجود ہے، اور وہ اس کے اراکین سے رابطے میں ہیں۔
آئی ایم ایف کی چیف نے مزید کہا کہ حکام نے آر ایس ایف کے تحت اصلاحی اقدامات مکمل کر کے موسمیاتی لچک بڑھانے کے اپنے ایجنڈے کے نفاذ میں بھی پیشرفت کی ہے۔
بات چیت میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پاکستان کی اقتصادی صورتحال، ادائیگی کے توازن اور بیرونی مالیاتی ضروریات پر اثرات کو بھی زیر غور لایا گیا، خاص طور پر بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں اور عالمی مالیاتی حالات کی سختی کے پیش نظر معاملات کو زیر غور لایا گیا۔
ایوا پیٹرووا نے کہا کہ آئی ایم ایف ٹیم اور پاکستانی حکام یہ بات چیت آئندہ دنوں میں مکمل کرنے کے لیے جاری رکھیں گے۔
دریں اثناء آئی ایم ایف کی سربراہ نے آج ( جمعرات کو) اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”حکام نے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد میں بھی خاطر خواہ پیش رفت کی ہے تاکہ ماحولیاتی لچک کو مضبوط کیا جا سکے، جس میں آر ایس ایف کے تحت اصلاحی اقدامات مکمل کرنا بھی شامل ہے۔“
ان کا مزید کہنا تھا کہ ”مباحثے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پاکستان کی معاشی صورت حال، ادائیگی کے توازن اور بیرونی مالیاتی ضروریات پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات کی سختی کے تناظر میں۔“
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور حکام آئندہ چند روز میں ان مباحثوں کو مکمل کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔






















Comments