وزیر اعظم شہباز شریف نے سرکاری اخراجات میں فوری کٹوتی کا اعلان کردیا
- غربت، دہشت گردی اور سیکورٹی کے چیلنجز پاکستان کی مغربی سرحدوں پر برقرار ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو ملکی سطح پر جامع معاشی کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان کیا، جس کا مقصد حکومت کے اخراجات میں کمی کرنا اور عالمی توانائی بحران کے پیش نظر ایندھن کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پیش نظر پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے اور پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ غربت، دہشت گردی اور سیکورٹی کے چیلنجز پاکستان کی مغربی سرحدوں پر برقرار ہیں، جن سے ہماری مسلح افواج مؤثر انداز میں نمٹ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشنز چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شاہ کی قیادت میں جاری ہیں۔
نئی کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت حکومت کے تمام محکموں، وزارتوں، خود مختار اداروں، دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں اقدامات کیے جائیں گے۔ تمام سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کی تقسیم اگلے دو ماہ کے لیے 50 فیصد کم کر دی جائے گی، جبکہ آپریشنل گاڑیاں، جیسے سرکاری بسیں، ایمبولینسیں اور موٹر سائیکلیں مستثنی ہوں گی۔ اس سے وفاقی سطح پر تقریباً 4.5 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ اس دوران وفاقی اور صوبائی سطح پر 60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑک پر رہیں گی۔
وفاقی اور صوبائی وزرا، مشیران اور معاونین اگلے دو ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں اور الاؤنسز معطل کریں گے جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں اور الاؤنسز 20 فیصد کم ہوں گے۔ گریڈ 20 اور اس سے زائد افسران، جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، دو دن کی تنخواہ کے برابر کٹوتی کے پابند ہوں گے۔
مزید برآں، تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے غیر ترقیاتی بجٹ میں چوتھی سہ ماہی کے لیے 20 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
اہم اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں فوری 50 فیصد کمی، صوبائی وزرا اور اعلیٰ افسران کے اضافی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی، سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی کا نفاذ، 10 تا 31 مارچ تک اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کی بندش جبکہ آن لائن کلاسز اور امتحانات جاری رہیں گے شامل ہیں۔ تمام سرکاری تقریبات منسوخ یا سرکاری مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی وارننگ دی اور امیر اور سماجی طور پر ذمہ دار افراد سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ چار روزہ ورکنگ ویک بینکوں پر لاگو نہیں ہوگی اور ضروری خدمات کو چھوڑ کر سرکاری دفاتر میں 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا۔
اس اجلاس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔






















Comments