مذاکرات کے لیے راستہ نکالیں، وزیر اعظم کی علاقائی بحران کے دوران تحمل کی اپیل
- کشیدگی اس وقت بڑھی جب عمان کے تعاون سے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات اور اعتماد سازی کے لیے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کی تعمیری کوششوں کی تعریف کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یہ گفتگو سلطانِ عمان کے ساتھ ایک ٹیلیفونک رابطے کے دوران کی۔ وزیرِ اعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جو ایران پر اسرائیل کے حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث مزید خراب ہو گئی ہے، جس سے پورے خطے کا امن و سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور سفارتی اقدامات کی بحالی کے لیے راستہ نکالنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھی جب عمان کے تعاون سے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں نے نہ صرف نازک سفارتی عمل کو پٹری سے اتار دیا ہے بلکہ خطے میں مذاکرات اور تناؤ میں کمی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
عمان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ عمان کی متوازن اور دور اندیش سفارت کاری خطے میں استحکام لانے والی ایک قوت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور خطے میں امن کی بحالی اور پائیدار استحکام کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کی صبح آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی تصدیق کی، جس کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ خامنہ ای اس تنازع میں مارے گئے جس نے ایران پر ان کی حکمرانی کو متعین کیا تھا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد ان کی میت مل گئی ہے۔
انتقامی کارروائی کے طور پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بہانے خلیجی ممالک کی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کے زوردار دھماکے اور آگ کے گولے دیکھے گئے۔
گزشتہ روز نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی عمان کے وزیرِ خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی سے بات کی تھی۔ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور امن و استحکام کے تحفظ کے لیے تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز بھی مشرقِ وسطیٰ کے مختلف رہنماؤں سے رابطے کیے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے تحمل اور مذاکرات پر زور دیا۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر مستحکم سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،جس نے کئی علاقائی ممالک کو متاثر کیا ہے۔
























Comments