اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی سطح پر طاقت کے قانون کے بڑھتے رجحان کی مذمت کردی
- انتونیو گوتریس کا دنیا بھر میں قانون کے بجائے طاقت کے بڑھتے ہوئے غلبے پر اظہارِ افسوس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق پر بھرپور حملہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے طاقتور ممالک مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر ٹیکنالوجیز کو انسانی حقوق دبانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کی دنیا میں انسانی تکالیف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی قانون کو محض ایک زحمت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے یوکرین میں خونریزی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں دو ریاستی حل کو دن دیہاڑے ختم کیا جا رہا ہے جسے عالمی برادری کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔
یو این کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی خبردار کیا کہ آمریت اور تسلط پسندی کا رجحان واپس آ رہا ہے اور طاقت کا استعمال اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد امریکہ کی جانب سے غیر ملکی امداد میں کٹوتی نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ گوتریس جو اس سال اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں نے زور دیا کہ طاقتوروں کو ایسا نیا قانون لکھنے کی اجازت نہ دی جائے جس میں کمزوروں کے حقوق چھین لیے جائیں۔
























Comments
Comments are closed.