انڈس موٹر کے بعد از ٹیکس منافع میں 28 فیصد اضافہ
- 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی کے دوران کمپنی کا منافع 12.7 ارب روپے تک پہنچ گیا
پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیوں کی اسمبلنگ کرنے والی کمپنی انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی ایم سی) کے مالیاتی نتائج کے مطابق 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی کے دوران کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 9.96 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 12.7 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
کمپنی کی فی حصص آمدنی (ای پی ایس) بڑھ کر 161.60 روپے ہوگئی جو 2024 کی اسی ششماہی میں 126.69 روپے تھی۔
کمپنی نے اس پیشرفت سے جمعہ کو اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا۔
آئی ایم سی نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے لیے 46 روپے فی حصص (یعنی 460 فیصد) عبوری نقد ڈیوڈنڈ (منافع) کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مالیاتی نتائج کے مطابق صارفین کے ساتھ معاہدوں سے حاصل ہونے والی آمدن 40 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 119.19 ارب روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 84.88 ارب روپے تھی۔ یہ اضافہ گاڑیوں کی فروخت میں تیزی اور قیمتوں پر نظرِ ثانی (اضافے) کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کا مجموعی منافع بھی نمایاں طور پر 55 فیصد بڑھ کر 18.09 ارب روپے ہو گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 11.69 ارب روپے تھا۔
اخراجات کی جانب دیکھا جائے تو تقسیم ، انتظامی اور دیگر آپریٹنگ اخراجات مجموعی طور پر بڑھ کر 3.32 ارب روپے ہو گئے جو گزشتہ سال 2.52 ارب روپے تھے، جو کہ تقریباً 32 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
کمپنی کے مالیاتی اخراجات بھی 99.53 ملین روپے سے بڑھ کر 131.65 ملین روپے ہو گئے جبکہ دیگر آمدنی گزشتہ سال کے 8.18 ارب روپے کے مقابلے میں معمولی اضافے کے ساتھ 8.22 ارب روپے رہی۔
آئی ایم سی کا قبل از ٹیکس منافع گزشتہ سال کی اسی ششماہی کے 16.39 ارب روپے کے مقابلے میں 21.53 ارب روپے رہا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی نے 8.83 ارب روپے کے ٹیکس ادا کیے جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کمپنی کی منافع میں یہ بہتری آٹو سیکٹر میں بحالی کے آثار کی وجہ سے ہے جسے درآمدی پابندیوں میں نرمی اور صارفین کی طلب میں بتدریج اضافے سے تقویت ملی ہے۔






















Comments