انڈین ٹربیونل نے ماحولیاتی خدشات کے باوجود گریٹ نکوبار انفرااسٹرکچر منصوبے کی منظوری دیدی
- نیشنل گرین ٹربیونل نے پیر کے روز ان تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا جو اس منصوبے کے خلاف دائر کی گئی تھیں
انڈیا کی ماحولیاتی عدالت نے بحر ہند میں واقع حساس جزیرہ گریٹ نکوبار پر چلنے والے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کے لیے منظوری دے دی، حالانکہ ماہرین ماحولیات اور مقامی گروپوں نے جزیرے کی ماحولیاتی تباہی کے خدشات ظاہر کیے تھے۔
نیشنل گرین ٹربیونل نے پیر کے روز ان تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا جو اس منصوبے کے خلاف دائر کی گئی تھیں اور کہا کہ منصوبے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت جزیرے پر ٹرانس شپمنٹ پورٹ، ایئرپورٹ، پاور پلانٹ اور ایک ٹاؤن شپ کی تعمیر شامل ہے، جو آبنائے ملاکا کے قریب واقع ہے، جو دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اس منصوبے کے ذریعے جزیرے کو عالمی تجارتی راستوں سے جوڑنے کے لیے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ماحولیات کے وزیر نے ستمبر 2025 میں اسے اسٹرٹیجک، دفاع اور قومی اہمیت کا منصوبہ قرار دیا تھا، جس سے گریٹ نکوبار بحر ہند میں بحری اور ہوائی رابطوں کا اہم مرکز بن جائے گا۔
تاہم، ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ جزیرے کی ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لاکھوں درختوں کی کٹائی کا باعث بنے گا اور مقامی قبائلی کمیونٹی کے حقوق متاثر ہوں گے۔ نکوبار کمیونٹی نے اپنے آبا و اجداد کی زمین سے بے دخلی کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جو 2004 کے سونامی میں پہلے ہی تباہ ہو چکی تھی۔
اپوزیشن کانگریس کے قانون ساز جیرام رامیش نے ٹربیونل کی منظوری کو انتہائی مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات تباہ کن ہوں گے اور طویل مدتی نتائج مرتب کریں گے۔























Comments
Comments are closed.