BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.29 Increased By ▲ 0.30 (0.88%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.38 Increased By ▲ 2.41 (1.25%)
FABL 89.94 Increased By ▲ 0.15 (0.17%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 19.55 Increased By ▲ 0.58 (3.06%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.97 Increased By ▲ 0.46 (0.53%)
OGDC 322.27 Increased By ▲ 2.31 (0.72%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 16.89 Increased By ▲ 0.22 (1.32%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.29 Increased By ▲ 1.11 (0.49%)
PRL 34.79 Increased By ▲ 0.11 (0.32%)
SNGP 99.45 Increased By ▲ 0.27 (0.27%)
SSGC 27.06 Increased By ▲ 0.46 (1.73%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک نے بینکاری شعبے کے سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے سائبر شیلڈ حکمت عملی کا آغاز کر دیا

  • حکمت عملی کا مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے بچانا ہے, تاکہ مالیاتی خدمات تک بلا تعطل اور محفوظ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے
شائع February 16, 2026 اپ ڈیٹ February 16, 2026 07:32pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ’ویژن 2028 ایجنڈے کے تحت سائبر شیلڈ ریگولیٹڈ اداروں کے لیے سائبر ریزیلینس حکمتِ عملی کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک کے بینکاری اور مالیاتی نظام کی حفاظت اور مضبوطی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا کہ اس حکمتِ عملی کا مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے بچانا ہے، تاکہ عام افراد اور کاروباری اداروں کے لیے مالیاتی خدمات تک بلا تعطل اور محفوظ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ حکمتِ عملی ریگولیٹڈ اداروں کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ اپنے سسٹمز اور کنٹرولز کو بہتر بنائیں، سائبر واقعات کو روکیں، ابھرتے ہوئے خطرات کا تیزی سے جواب دیں اور کسی بھی خلل کی صورت میں مؤثر طریقے سے بحالی کا عمل مکمل کر سکیں۔

بینکاری کے نظام میں سائبر خطرات کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی بینک نے کہا کہ یہ اقدام مالیاتی شعبے کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ہمہ گیر، مستقبل بین اور اشتراکی نقطہ نظر کو اپناتا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں پانچ کلیدی ترجیحات طے کی گئی ہیں جس میں سائبر واقعات کا مقابلہ کرنے کے لیے بینکوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، سائبر سیکیورٹی کے لیے گورننس اور جوابدہی کو بہتر بنانا، مالیاتی شعبے کے اندر تعاون اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا، ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی طریقوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ وہ عالمی اور مقامی سطح پر سائبر صورتحال کی کڑی نگرانی کرے گا اور نئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر اس حکمتِ عملی پر نظرثانی کی جائے گی۔ اس اقدام کا حتمی مقصد صارفین کا تحفظ، ڈیجیٹل جدت کی حمایت اور ملک میں مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

Comments

200 حروف