اے آئی محصولات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا، وزیر خزانہ
- دنیا کے مختلف ممالک مصنوعی ذہانت کو مختلف رفتار سے اپنا رہے ہیں، اور یہ ان کے اقتصادی ڈھانچے اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ہوتا ہے، محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز اسلام آباد میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، ریونیو ایڈمنسٹریشن مضبوط کرنے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت کے لیے تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ کے دوران ”اے آئی فار پبلک سروس ٹرانسفارمیشن اینڈ ایس ڈی جی ایکسلریشن“ کے عنوان سے پینل ڈسکشن میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ ممالک مختلف رفتار سے مصنوعی ذہانت کو اپنا رہے ہیں، جو ان کے اقتصادی ڈھانچے اور ترقی کی ترجیحات کے مطابق ہے۔
محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیروی کے بجائے قابل اطلاق اور عملی حل پر توجہ دی جائے جو کارکردگی، شفافیت اور پیداواری صلاحیت میں قابلِ پیمائش فوائد فراہم کریں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ اے آئی سے چلنے والے نظام پہلے ہی ٹیکس کی تعمیل، نفاذ اور فیصلہ سازی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جاری ٹیکس اصلاحات، جو لوگوں، عمل اور ٹیکنالوجی میں اصلاحات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، اے آئی سے چلنے والے کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ سسٹمز، پروڈکشن مانیٹرنگ ٹولز، رسک بیسڈ کمپلائنس میکانزم اور بے چہرہ کسٹمر پروسیسز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”ان اقدامات کا مقصد رساؤ کو کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور محصولات کے نتائج بہتر بنانا ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی انسانی مداخلت کو محدود کرنا نااہلی اور بدعنوانی روکنے کے لیے ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اے آئی پر مبنی نظاموں نے ایسے واضح مالی فوائد دیے ہیں جو صرف دستی عمل سے ممکن نہیں تھے۔
ڈیجیٹل اثاثوں پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) کا قیام حکومت کے اس ارادے کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو رسمی معیشت میں شامل کرتے ہوئے ممکنہ خطرات سے نمٹا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمی کو منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لانا مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور یہ مستقبل کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مددگار ہوگا۔
انہوں نے انسانی سرمائے اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ پاکستان کے نوجوان عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے اعلیٰ قدر والے شعبوں تک آسان رسائی حاصل کر سکیں۔
مزید کہا کہ بلاک چین اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی جدید ٹیکنالوجیز پیداواری صلاحیت بڑھانے اور آمدنی کے مواقع وسیع کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
اپنے اختتامی کلمات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے محصولات کی وصولی، عوامی خدمات کی فراہمی، اور ماحولیاتی و آبادیاتی انتظام کے شعبوں میں اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان فوائد کے حقیقی ادراک کے لیے واضح پالیسی کی رہنمائی، ادارہ جاتی تیاری اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے حکومت کے تمام محکموں کا مربوط نقطہ نظر ضروری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلیکمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال بھی شریک تھے۔






















Comments