پاکستان اور قازقستان نے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھا دیا
- وزیرِاعظم شہباز شریف اور صدرجومارت توکایوف کے درمیان مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے اس مفاہمت کو باضابطہ طور پر حتمی شکل دے دی
پاکستان اور قازقستان نے بدھ کے روز اپنے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جسے 23 سال کے وقفے کے بعد صدر قاسم جومارت توکایوف کے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مفاہمت وزیرِاعظم شہباز شریف اور صدر توکایوف کے درمیان مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے باضابطہ طور پر طے پائی، جس میں سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی، علاقائی رابطہ کاری، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کا احاطہ کیا گیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے، جو مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط پر استوار ہے۔ پاکستان اُن ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1991 میں قازقستان کی آزادی کو تسلیم کیا تھا۔
اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت دونوں ممالک نے آٹھ ترجیحی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جن میں سیاسی مکالمہ، سلامتی اور دفاع، تجارت و سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، تعلیم اور آئی ٹی، ثقافت اور میڈیا، موسمیاتی تبدیلی، اور علاقائی و بین الاقوامی ہم آہنگی شامل ہیں۔
سیاسی اور سیکورٹی تعاون
رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے روابط کے باقاعدہ انعقاد پر اتفاق کیا، جن میں وزرائے خارجہ کی سطح پر دو سالہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ بھی شامل ہوگا۔
پارلیمانی تعاون اور عوامی روابط کو بھی وسعت دی جائے گی، جبکہ قازقستان کے ای ویزا نظام میں پاکستان کی شمولیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیکورٹی کے شعبے میں دونوں فریقوں نے تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا اور دہشت گردی، انتہاپسندی، منظم جرائم، سائبر کرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سطح کی سیکورٹی ڈائیلاگ کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں ملزمان کی حوالگی، جرائم کے انسداد اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں مشترکہ تعیناتی سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری
اقتصادی تعاون پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک نے زراعت، توانائی، ٹیکسٹائل، ادویات سازی، آئی ٹی، فنانس اور دفاعی پیداوار جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔
رہنماؤں نے ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز تعاون، مالیاتی منڈیوں کے ضابطۂ کار اور زراعت سے متعلق تعاون پر طے پانے والے معاہدوں کا خیرمقدم کیا۔ آستانہ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور پاکستان کی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا۔
رابطہ کاری کے شعبے میں دونوں فریقوں نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے کثیرالجہتی ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی اہمیت پر زور دیا، جن میں افغانستان اور چین کے راستے شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرانس افغان ریلوے کوریڈور سے متعلق قازقستان کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ حکام کو اس کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
دونوں رہنماؤں نے براہِ راست پروازوں کی بحالی اور بحری و ڈاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔
تعلیم، آئی ٹی، ثقافت اور موسمیاتی تبدیلی
تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور آئی ٹی تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی، جن میں ای گورننس، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک، سائبر سکیورٹی اور خلائی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے آئی ٹی، ڈیجیٹل ترقی اور ڈیٹا سے متعلق اداروں کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو بھی مختلف معاہدوں کے ذریعے وسعت دی جائے گی، جن میں پاکستان ٹیلی وژن اور قازق میڈیا اداروں، ثقافتی تنظیموں اور اسپورٹس فیڈریشنز کے درمیان شراکت داریاں شامل ہیں۔ لاہور اور ترکستان، جبکہ فیصل آباد اور شمکنت کے درمیان سسٹر سٹی معاہدوں کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان اور قازقستان نے پانی کے تحفظ، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، قابلِ تجدید توانائی، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا، اور مشترکہ موسمیاتی خطرات کو تسلیم کیا۔
رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ وسطی اور جنوبی ایشیا میں علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے گی۔
توکایوف کو گارڈ آف آنر
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر صدر قاسم جومارت توکایوف کا پُرتپاک استقبال کیا۔ صدر توکایوف کی آمد پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایوف منگل کو دو روزہ سرکاری دورے کے لیے پاکستان پہنچے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
دونوں ممالک دوستانہ سفارتی تعلقات برقرار رکھتے ہیں اور قازقستان وسطی ایشیا کے ممالک میں پاکستان کی سب سے بڑی برآمداتی منڈی ہے۔
صدر توکایوف کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہے، جس میں کابینہ کے سینئر وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں اسلام آباد کی سڑکیں قازقستان کے قومی جھنڈے سے سجی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔






















Comments