ترکیہ کے صدر اردوان سعودی عرب کے دورے پر، سابق حریف ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی
- اردوان اپنے اس دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، جو جولائی 2023 کے بعد ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہوگا
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان منگل کے روز ریاض پہنچ گئے، سعودی میڈیا کے مطابق یہ دو برس سے زائد عرصے میں ان کا پہلا دورہ ہے، ایسے وقت میں جب سعودی عرب اپنے سابق حریف کے ساتھ تعلقات مزید بڑھا رہا ہے۔
ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں بتدریج بحال ہوئے ہیں اور دونوں ممالک متعدد سفارتی امور پر تعاون کر رہے ہیں۔
اس میں غزہ کی حمایت اور 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی حکومت کی پشت پناہی بھی شامل ہے۔
دورے کے دوران صدر اردوان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ جولائی 2023 کے بعد ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہوگا، جو سرمایہ کاری کے حصول کے لیے خلیجی ممالک کے دورے کا حصہ تھا۔
تاحال اس بات کا کوئی سرکاری اشارہ نہیں دیا گیا کہ دونوں فریقین کے درمیان کن امور پر بات چیت ہوگی۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق، دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے علاوہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
ایجنسی نے مزید بتایا کہ صدر اردوان بدھ کے روز قاہرہ کا رخ کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند روز قبل دو ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مجوزہ باہمی دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ اس اتحاد میں شمولیت کے لیے بات چیت کا آغاز کیا گیا ہے۔
تاہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم کے ماہر عمر کریم جیسے تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ ریاض کے ساتھ تعلقات میں بہتری لاتے ہوئے ترکی کو دیگر علاقائی حریفوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا توازن بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
عمر کریم نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ”میرا خیال ہے کہ اسی دورے میں یہ بات واضح ہوگی کہ ترکی، متحدہ عرب امارات کے ساتھ رقابت اور اسرائیل کی جانب سے درپیش سکیورٹی خطرات کے تناظر میں، سعودی عرب کے لیے کس حد تک وعدے کر سکتا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ”ترکی کیا دے سکتا ہے اور کیا نہیں، اسی بنیاد پر یہ سہ فریقی انتظام طے پائے گا۔“
ان کا کہنا تھا کہ ”چونکہ ترک اشرافیہ کے دبئی میں مالی مفادات ہیں اور متحدہ عرب امارات ترک معیشت کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے ترکی اس کے خلاف کھل کر جانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“
ریاض اور انقرہ کے تعلقات اکتوبر 2018 میں اس وقت شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے جب سعودی ایجنٹس نے صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کر دیا تھا۔
اس وقت ترکی نے کیس کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا، تحقیقات کا آغاز کیا اور قتل کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا کو فراہم کیں، جس پر سعودی عرب شدید ناراض ہوا۔
بعد ازاں سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی عرب ممالک کی جانب سے ترکی کے اتحادی قطر کے خلاف عائد کردہ معاشی پابندیوں نے بھی تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔ اگرچہ یہ پابندیاں 2021 میں ختم کر دی گئیں، تاہم ترکی کے ساتھ تعلقات بدستور کشیدہ رہے۔
ریاض میں یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب 6 فروری کو ترکی میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات متوقع ہیں۔ ایک عرب عہدیدار نے منگل کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب تہران نے جوہری مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور واشنگٹن نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں نتائج کی وارننگ دی ہے۔
صدر اردوان امریکا اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی کو کھلے تصادم میں بدلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
























Comments