بھارت میں بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا بل پیش
- گذشتہ ماہ آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی تھی
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک اتحادی نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا بل پیش کیا ہے، جب کہ میٹا اور یوٹیوب کے لیے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ عالمی بحث میں شامل ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کی صحت اور حفاظت پر کیسے اثر ڈال رہا ہے۔
قانون ساز ایل ایس کے دیورایالو نے کہا کہ ہمارے بچے صرف سوشل میڈیا کے عادی نہیں ہو رہے، بلکہ بھارت غیر ملکی پلیٹ فارمز کے لیے دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا پروڈیوسر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کمپنیاں جدید اے آئی سسٹمز تیار کر رہی ہیں اور بھارتی صارفین کو بغیر معاوضہ ڈیٹا فراہم کرنے والے بنا دیا جا رہا ہے، جبکہ اقتصادی اور اسٹریٹجک فوائد کہیں اور حاصل کیے جا رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی، جبکہ فرانس کی قومی اسمبلی نے 15 سال سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کی۔ برطانیہ، ڈنمارک اور یونان اس مسئلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایل ایس کے دیورایالو کے 15 صفحات پر مشتمل بل کے مطابق، 16 سال سے کم عمر کوئی بھی شخص سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکتا اور موجودہ اکاؤنٹس کو غیر فعال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صارف کی عمر کی تصدیق کی ذمہ داری پوری طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونی چاہیے۔
بل ایک پرائیویٹ ممبر کا ہے اور پارلیمنٹ میں وفاقی وزیر کی جانب سے پیش نہیں کیا گیا، لیکن ایسے بل اکثر بحث کو جنم دیتے ہیں اور قانون سازی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
ایل ایس کے دیورایالو تلگو دسم پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں حکومت کر رہی ہے اور مودی کی اتحادی حکومت میں اہم کردار رکھتی ہے۔
























Comments