سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کا حکومت سے گنے کی قیمت 600 روپے من مقرر کرنے کا مطالبہ
- ایس سی اے کا اجلاس، شوگر ملز پر کسانوں کے استحصال کا الزام عائد
حیدرآباد میں سندھ چیمبر آف ایگریکلچر (ایس سی اے) کے اہم اجلاس میں شوگر مل مالکان کو مافیا قرار دیتے ہوئے کسانوں کے معاشی استحصال کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ شوگر کین ایکٹ کے تحت ان ملوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو کرشنگ میں تاخیر کر رہی ہیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ملیں جان بوجھ کر سست روی سے کام لے رہی ہیں، جس سے گنا خشک ہو جاتا ہے اور کسانوں کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس ضمن میں گنے کی قیمت 600 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تنظیم نے انکشاف کیا کہ ناقص پالیسیوں کے باعث صوبے میں گندم کی کاشت میں 32 فیصد کمی آئی ہے، جو غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی امدادی قیمت 5,000 روپے فی من مقرر کر کے کاشتکاروں سے براہ راست 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے۔
اس کے علاوہ ٹماٹر، پیاز اور کھجور کی قیمتوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی برآمدات فوری شروع کرنے اور سرسوں کی قیمت 10,000 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔






















Comments