BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.23 (0.39%)
BIPL 25.43 Increased By ▲ 0.23 (0.91%)
BOP 34.50 Increased By ▲ 0.51 (1.5%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.14 (0.67%)
DGKC 196.16 Increased By ▲ 3.19 (1.65%)
FABL 89.99 Increased By ▲ 0.20 (0.22%)
FCCL 53.35 Increased By ▲ 0.52 (0.98%)
FFL 18.15 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
GGL 19.05 Increased By ▲ 0.08 (0.42%)
HBL 287.25 Increased By ▲ 1.75 (0.61%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.80 Decreased By ▼ -0.08 (-0.74%)
KEL 8.16 Increased By ▲ 0.14 (1.75%)
LOTCHEM 28.07 Increased By ▲ 0.18 (0.65%)
MLCF 87.49 Increased By ▲ 0.98 (1.13%)
OGDC 322.69 Increased By ▲ 2.73 (0.85%)
PAEL 40.16 Increased By ▲ 0.74 (1.88%)
PIBTL 17.16 Increased By ▲ 0.49 (2.94%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 5.94 (2.23%)
PPL 230.10 Increased By ▲ 1.92 (0.84%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.72 Increased By ▲ 0.50 (6.08%)
TRG 70.17 Increased By ▲ 0.46 (0.66%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کا حکومت سے گنے کی قیمت 600 روپے من مقرر کرنے کا مطالبہ

  • ایس سی اے کا اجلاس، شوگر ملز پر کسانوں کے استحصال کا الزام عائد
شائع January 26, 2026 اپ ڈیٹ January 26, 2026 12:58pm

حیدرآباد میں سندھ چیمبر آف ایگریکلچر (ایس سی اے) کے اہم اجلاس میں شوگر مل مالکان کو مافیا قرار دیتے ہوئے کسانوں کے معاشی استحصال کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ شوگر کین ایکٹ کے تحت ان ملوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جو کرشنگ میں تاخیر کر رہی ہیں۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ملیں جان بوجھ کر سست روی سے کام لے رہی ہیں، جس سے گنا خشک ہو جاتا ہے اور کسانوں کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس ضمن میں گنے کی قیمت 600 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تنظیم نے انکشاف کیا کہ ناقص پالیسیوں کے باعث صوبے میں گندم کی کاشت میں 32 فیصد کمی آئی ہے، جو غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی امدادی قیمت 5,000 روپے فی من مقرر کر کے کاشتکاروں سے براہ راست 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے۔

اس کے علاوہ ٹماٹر، پیاز اور کھجور کی قیمتوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی برآمدات فوری شروع کرنے اور سرسوں کی قیمت 10,000 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔

Comments

200 حروف