BR100 Increased By (1.77%)
BR30 Increased By (1.96%)
KSE100 Increased By (1.59%)
KSE30 Increased By (1.65%)
BAFL 59.00 Increased By ▲ 1.15 (1.99%)
BIPL 25.70 Increased By ▲ 0.23 (0.9%)
BOP 34.55 Increased By ▲ 0.87 (2.58%)
CNERGY 8.10 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
DFML 19.03 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
DGKC 207.20 Increased By ▲ 13.10 (6.75%)
FABL 90.87 Increased By ▲ 0.98 (1.09%)
FCCL 54.40 Increased By ▲ 2.26 (4.33%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
GGL 20.84 Increased By ▲ 0.17 (0.82%)
HBL 287.62 Increased By ▲ 3.70 (1.3%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 6.77 (3.19%)
HUMNL 11.02 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.21 (2.68%)
LOTCHEM 28.97 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
MLCF 90.70 Increased By ▲ 4.19 (4.84%)
OGDC 317.90 Increased By ▲ 1.70 (0.54%)
PAEL 41.26 Increased By ▲ 1.30 (3.25%)
PIBTL 17.52 Increased By ▲ 0.25 (1.45%)
PIOC 280.18 Increased By ▲ 12.60 (4.71%)
PPL 226.70 Increased By ▲ 4.03 (1.81%)
PRL 34.70 Increased By ▲ 0.24 (0.7%)
SNGP 100.64 Increased By ▲ 1.55 (1.56%)
SSGC 26.98 Increased By ▲ 0.31 (1.16%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.85 Decreased By ▼ -0.35 (-3.13%)
TRG 69.40 Decreased By ▼ -1.19 (-1.69%)
UNITY 11.54 Increased By ▲ 0.10 (0.87%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.02 (1.57%)
کاروبار اور معیشت

شرح سود میں متوقع کمی، مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

  • تجزیہ کار آج کے اجلاس میں مزید مانیٹری نرمی کی توقع کر رہے ہیں اور ان کے مطابق پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک کمی کی جا سکتی ہے۔
شائع January 26, 2026 اپ ڈیٹ January 26, 2026 09:12am

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس آج (پیر) طلب کیا گیا ہے جس میں بنیادی شرح سود سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں میڈیا کو بریفنگ دیں گے۔ 15 دسمبر 2025 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں کمیٹی نے مارکیٹ کو حیران کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کر کے اسے 10.50 فیصد کر دیا تھا، کیونکہ اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہی تھی۔

تجزیہ کار آج کے اجلاس میں مزید مانیٹری نرمی کی توقع کر رہے ہیں اور ان کے مطابق پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک کمی کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں، جنہیں کم ہوتی مہنگائی، بیرونی کھاتوں میں بہتر استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے تقویت مل رہی ہے۔

اس توقع کو حالیہ گورنمنٹ آف پاکستان مارکیٹ ٹریژری بلز کی نیلامی سے بھی تقویت ملی ہے، جہاں تین اور چھ ماہ کی مدت کے کٹ آف منافع کی شرحیں چار سال میں پہلی بار سنگل ڈیجٹ سطح پر آ گئی ہیں۔

کاروباری برادری پہلے ہی بنیادی پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ سطح پر لانا صنعتی سرگرمی اور معاشی نمو کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کا پالیسی ریٹ جون 2024 میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ تاہم معاشی اشاریوں میں بہتری کے بعد مانیٹری پالیسی کمیٹی اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 11.50 فیصد پوائنٹس کمی کر چکی ہے، جس کے بعد یہ 10.5 فیصد کی سطح پر آ چکا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف